30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور مشکوك کہ جب تك اپنی شریعت سے اس کا حال نہ معلوم ہو حکم ہے کہ اس کی تصدیق نہ کرو ممکن کہ ان کی تحریفات یا خرافات سے ہو،نہ تکذیب کرو ممکن کہ توریت یا تعلیمات سے ہواسلام لا کر قسم اول کا حرف حرف قطعًا اُن کے دل سے نکل گیا۔قسم دوم کا علم اور مسجّل ہوگیا،یہ مسئلہ قسم سوم بقایائے علم یہود سے تھا جس کے بطلان پر آگاہ نہ ہو کر انہوں نے بیان کیا اورصحابہ کرام نے قرآن عظیم سے اس کا بطلان ظاہر فرمادیا یعنی یہ نہ توریت سے ہے نہ تعلیمات سے بلکہ ان خبیثوں کی خرافات سے تابعین صحابہ کرام کے تابع و خادم ہیں،مخدوم اپنے خدام کو ایسے الفاظ سے تعبیر کرسکتے ہیں اور مطلب یہ ہے جو ہم نے واضح کیا وﷲ الحمد۔
(۷)اس ساری تحریر میں مجھے آپ سے اس فقرے کا زیادہ تعجب ہوا کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے آسمان کے سکون فی مکانہ کی تصریح فرمادی مگر زمین کے بارے میں ایسا نہ فرمایا،خاموشی فرمائی،اسے آپ نے اپنی مشکل کا حل تصور کیا۔کعب احبا رنے آسمان ہی کا گھومنا بیان کیا تھا اور یہود اسی قدر کے قائل تھے زمین کو وہ بھی ساکن مانتے تھے بلکہ ۱۵۳۰ء سے پہلے(جس میں کوپرنیکس نے حرکت زمین کی بدعت ضالہ کو کہ دو ہزار برس سے مردہ پڑی تھی جِلایا)نصارٰی بھی سکون ارض ہی کے قائل تھے،اسی قدر یعنی صرف دورہ آسمان کا ان حضرات عالیات کے حضور تذکرہ ہوا اس کی تکذیب فرمادی۔دورہ زمین کہا کس نے تھا کہ اس کا ردّ فرماتے،اگر کوئی صرف زمین کا دورہ کہتا صحابہ اسی آیتہ کریمہ سے اُس کی تکذیب کرتے اور اگر کوئی آسمان و زمین دونوں کا دورہ بتاتا،صحابہ اسی آیت سے دونوں کا ابطال فرماتے جواب بقدر سوال دیکھ لیا یہ نہ دیکھا کہ جس آیت سے وہ سند لائے اس میں آسمان وزمین دونوں کا ذکر ہے ،یا صرف آسمان کا،آیت پڑھیے صراحتًا دونوں ایك حالت پر مذکور ہیں دونوں پر ایك ہی حکم ہے۔جب حسب ارشادِ صحابہ آیہ کریمہ مطلق حرکت کا انکار فرماتی ہے اور وہ انکار آسمان و زمین دونوں کے لیے ایك نسق ایك لفظ ان تزولا میں ہے جس کی ضمیر دونوں کی طرف ہے تو قطعًا آیت نے زمین کی بھی ہر گو نہ حرکت کو باطل فرمایا جس طرح آسمان کی،ایك شخص کہے حضرت سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے آفتاب کو اپنے لیے سجدہ کرتے نہ دیکھا تھا اس پر عالم فرمائے وہ جھوٹا ہے۔ آیہ کریمہ میں ہے:
|
" اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَ عَشَرَکَوْکَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَیۡتُہُمْ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ ﴿۴﴾"[1] |
میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع