30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تفارقہ ثم قال" اِنَّ اللہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۬ۚ"۔کفٰی بہازوالا ان تدورا۔[1] |
تو فرما رہا ہے بے شك اﷲ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ نہ سِرکیں،ان کے سرکنے کو گھومنا ہی کافی ہے۔ |
عبدبن حمید نے قتادہ شاگردِ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
|
ان کعبًا کان یقول ان السماء تدور علٰی نصب مثل نصب الرحا فقال حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنہما کذب کعب اِنَّ اللہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۬ۚ"۔[2] |
کعب کہا کرتے کہ آسمان ایك کیلی پر دورہ کرتا ہے جیسے چکی کی کیلی۔اس پر حذیفہ الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے فرمایا کعب نے جھوٹ کہا۔بے شك اﷲ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ جنبش نہ کریں۔ |
دیکھو ان اجلہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے مطلق حرکت کو زوال مانا اور اس پر انکار فرمایا اور قائل کی تکذیب کی اور اسے بقایائے خیالات یہودیت سے بتایا،کیا وہ اتنا نہ سمجھ سکتے تھے کہ ہم کعب کی ناحق تکذیب کیوں فرمائیں آیت میں تو زوال کی نفی فرمائی ہے اور اُن کا یہ پھرنا چلنا اپنے اماکن میں ہے جہاں تك احسن الخالقین تعالٰی نے ان کو حرکت کا امکان دیا ہے وہاں تك اُن کا حرکت کرنا ان کا زوال نہ ہوگا۔مگر ان کا ذہن مبارك اس معنی باطل کی طرف نہ گیا نہ جاسکتا تھا بلکہ اس کے ابطال ہی کی طرف گیا اور جانا ضرور تھا کہ اﷲ تعالٰی نے مطلقًا زوال کی نفی فرمائی ہے نہ کہ خاص زوال عن المدار کی تو انہوں نے روانہ رکھا کہ کلامِ الٰہی میں اپنی طرف سے یہ پیوند لگالیں لاجرم اس پر رَد فرمایا اور اس قدر شدید واشد فرمایا وﷲ الحمد۔
تنبیہ:کعب احبار تابعین اخیار سے ہیں خلافتِ فاروقی میں یہودی سے مسلمان ہوئے کُتب سابقہ کے عالم تھے۔اہلِ کتاب کی احادیث اکثر بیان کرتے انہیں میں سے یہ خیال تھا جس کی تغلیط ان اکابر صحابہ نے قرآن عظیم سے فرمادی تو کَذَ ب کعب کے یہ معنی ہیں کہ کعب نے غلط کہا نہ کہ معاذ اﷲ قصدًا جھوٹ کہا۔ کذب بمعنی اخطا محاورہ حجاز ہے اور خراش یہودیت بمشکل چھوٹنے سے یہ مراد کہ اُن کے دل میں علمِ یہود بھرا ہوا تھا وہ تین قسم ہے باطل صریح و حق صحیح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع