30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یوں تو دنیا بھر میں کوئی حرکت کبھی بھی زوال نہ ہو کہ جہاں تك احسن الخالقین تعالٰی نے امکان دیا ہے اُس سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔
(۵)اگر ان معنی کو مجازی نہ لیجئے بلکہ کہیے کہ زوال عام ہے مکان و مستقرحقیقی خاص سے سرکنا اور موقع عام اور موطن اعم اور اعم از اعم سے جُدا ہونا سب اس کے فرد ہیں تو ہر ایك پر اس کا اطلاق حقیقت ہے جیسے زید و عمرو وبکر وغیرہم کسی فرد کو انسان کہنا تو اب بھی قرآن کریم کا مفاد زمین کا وہی سکون مطلق ہوگا نہ کہ اپنے مدار سے باہر نہ جانا۔
تزولا فعل ہے اور محل نفی میں وارد ہے اور علمِ اصول میں مصرح ہے کہ فعل قوۃ نکرہ میں ہے اور نکرہ حیزنفی میں عام ہوتا ہے،تو معنی آیت یہ ہوئے کہ آسمان و زمین کو کسی قسم کا زوال نہیں نہ موقع عام سے نہ مستقر حقیقی خاص سے،اور یہی سکون حقیقی ہے وﷲ الحمد۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے مجاہد کبیر کو اپنی عبارت میں ہر جگہ قید بڑھانی پڑی زمین کا اپنے اماکن سے زائل ہوجانا اس کا زوال ہوگا۔زائل ہوجانا قطعًا مطلقًا زوال ہے۔زائل ہوجانا زوال کا ترجمہ ہی تو ہے۔مکانِ خاص سے ہو خواہ اماکن سے،مگر اوّل کے اخراج کو اس قید کی حاجت ہوتی تو یونہی فرمایا،زمین کا زوال اس کے اماکن سے۔پھر فرمایا جن اماکن میں اﷲ تعالٰی نے اُس کو امساك کیا ہے۔اس سے باہر سِرك نہیں سکتی۔پھر فرمایا اپنے مدار میں امساك کردہ شدہ ہے اس سے زائل نہیں ہوسکتی۔اور نفی کی جگہ فرمایا:حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے آسمان کے سکون فی مکانہ کی تصریح فرمادی مگر زمین کے بارے میں ایسا نہیں فرمایا۔یہاں جمع اماکن کا ظاہر کردیا مگر رب عزوجل نے تو اُن میں سے کوئی قید نہ لگائی۔مطلق یمسك فرمایا ہے اور مطلق ان تزولا۔اﷲ آسمان و زمین ہر ایك کو روکے ہوئے کہ سرکنے نہ پائے یہ نہ فرمایا کہ اس کے مدار میں روکے ہوئے ہے۔یہ نہ فرمایا کہ ہر ایك کے لیے اماکن عدیدہ ہیں اُن اماکن سے باہر نہ جانے پائے۔تواُس کا بڑھانا کلام الہی میں اپنی طرف سے پیوند لگانا ہوگا از پیش خویش قرآن عظیم کے مطلق کو مقید،عام کو مخصصّ بنانا ہوگا۔اور یہ ہر گز روا نہیں۔اہل سنت کا عقیدہ ہے جو ان کی کتبِ عقائد میں مصرح ہے۔کہ النصوص تحمل علٰی ظواھر ھا[1] (نصوص اپنے ظاہر پر محمول ہوتی ہیں۔ ت)بلکہ تمام ضلاتوں کا بڑا پھاٹك یہی ہے کہ بطورِ خود نصوص کو ظاہر سے پھیریں۔مطلق کو مقید عام کو مخصص کریں۔ " مَا لَکُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴿ۙ۴۴﴾"[2]۔ (تمہارے لیے زوال نہیں ت)کی تخصیص واضح سے ان تزولا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع