30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لاجرم تیسری آیہ کریمہ میں زوال سے مراد دنیا سے آخرت میں جانا ہے،نہ یہ کہ دُنیا میں اُن کا چلنا پھرنا زوال نہیں قطعًا حقیقی زوال ہے جس کی سندیں اوپر سُن چکے اور عظیم شافی بیان آگے آتا ہے،مگر یہاں اُس کا ذکر ہے جس کی وہ قسم کھاتے تھے اور وہ نہ تھا مگر دنیا سے انتقال معنی مجازی کے لیے قرینہ درکار ہوتا ہے۔یہاں قرینہ اُن کے یہی اقوال بعینہ ہیں بلکہ خود اسی آیت صدر میں قرینہ صریحہ مقالیہ موجود کہ روزِ قیامت ہی کے سوال وجواب کاذکر ہے فرماتا ہے:
|
" وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاۡتِیۡہِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ؕ اَوَلَمْ تَکُوۡنُوۡۤا اَقْسَمْتُمۡ مِّنۡ قَبْلُ مَا لَکُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴿ۙ۴۴﴾"[1] |
اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جب اُن پر عذاب آئے گا،تو ظالم کہیں گے اے ہمارے رب تھوڑی دیر ہمیں مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں اور رسولوں کی غلامی کریں۔تو کیا تم پہلے قسم نہ کھا چکے تھے کہ ہمیں دنیا سے ہٹ کر کہیں جانا نہیں۔(ت) |
لیکن کریمہ " اِنَّ اللہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۬ۚ"[2] ۔ (بے شك اﷲ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں جنبش نہ کریں۔ت)میں کوئی قرینہ نہیں تو معنی مجازی لینا کسی طرح جائز نہیں ہوسکتا بلکہ قطعًا زوال اپنے معنی حقیقی پر رہے گا۔یعنی قرار وثبات و سکون حقیقی کا چھوڑنا،اُس کی نفی ہے تو ضرور سکون کا اثبات ہے ایك جگہ معنی مجازی میں استعمال دیکھ کر دوسری جگہ بلاقرینہ مجاز مراد لینا ہر گز حلال نہیں۔
(۴)نہیں نہیں بلاقرینہ نہیں بلکہ خلافِ قرینہ،یہ اور سخت تر ہے کہ کلام اﷲ میں پوری تحریفِ معنوی کا پہلو دے گا رب عزوجل نے یمسك فرمایا ہے اور امساك روکنا،تھامنا،بند کرنا ہے۔ولہذا جو زمین کے پانی کو بہنے نہ دے روك رکھے اسے مسك اور مساك کہتے ہیں انہارو ابحار کو نہیں کہتے حالانکہ اُن میں بھی پانی کی حرکت وہیں تك ہوگی جہاں تك احسن الخالقین جل و علا نے اُس کا امکان دیا ہے۔قاموس میں ہے:
|
امسکہ حبسہ المسك محرکۃ الموضع یمسك الماء کالمساك کسحاب۔[3] |
امسکہ کا معنٰی ہے اس کو روکا۔المسک(س پر حرکت کے ساتھ) اُس جگہ کو کہتے ہیں جو پانی کو روکے،جیسے مساك بروزن سحاب(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع