30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خازن میں ہے: تزول عن اماکنھا۔[1] (پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں۔ت)کشاف میں ہے۔ تنقلع عن اماکنھا۔[2] (پہاڑ اپنی جگہوں سے اکھڑ جائیں۔ت)مدارك میں ہے: تنقطع عن اماکنھا۔[3] (پہاڑ اپنی جگہوں سے جُدا ہوجائیں۔ت) اسی کے مثل آپ نے کمالین سے نقل کیا،یہاں بھی مکان ومقر سے قطعًا وہی قرار ہے جو کریمہ" فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ"[4]۔میں تھا ز ارشاد کا ارشاد مقارھا جاہا ئے قرار اور کشاف کا لفظ تنقلع خاص قابلِ لحاظ ہے کہ اُکھڑ جانے ہی کو زوال بتایا۔
(ہ)سعیدبن منصور اپنے سُنن اور ابن ابی حاتم تفسیر میں حضرت ابومالك غزو ان غفاری کوفی اُستاذ امام سُدّی کبیر وتلمیذ حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
|
وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال قال تحرکت۔[5] |
اگرچہ ان کا مکر اس حد تك تھا کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں۔ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ حرکت کریں۔(ت) |
اُنہوں نے صاف تصریح کردی کہ زوالِ جبال اُن کا حرکت کرنا جنبش کھانا ہے۔اسی کی زمین سے نفی ہے۔وﷲ الحمد۔
(۳)اُوپر گزرا کہ زوال مقابل قرار و ثبات ہے اور قرار و ثبات حقیقی سکون مطلق ہے دربارہ قرار عبارت،امام راغب گزری،اور قاموس میں ہے:
|
المثبت کمکرم من لاحراك بہ من المرض وبکسر الباء الذی ثقل فلم یبرح الفراش وداء ثبات بالضم معجزعن الحرکۃ۔[6] |
مثبت بروزن مکرم وہ شخص ہے جس میں بیماری کی وجہ سے حرکت نہ ہو،اور اگر مثبت یعنی باء کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہوگا وہ شخص جس کی بیماری بڑھ گئی اور وہ صاحبِ فراش ہوگیا۔اور داء کامعنی ثُبات ہوا،ثاء پر ضمہ کے ساتھ،یعنی حرکت سے عاجز کردینے والا مرض(ت) |
[1] لباب التاویل فی معانی التنزیل(تفسیر خازن)تحت آیۃ ۱۴/ ۴۶ مصطفٰی البابی مصر ۴/ ۵۳
[2] الکشاف تحت آیۃ ۱۴/ ۴۶ مکتب الاعلام الاسلامی قم ایران ۲/ ۵۶۶
[3] مدارک التنزیل(تفسیر نسفی) تحت آیۃ ۱۴/ ۴۶ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۲۶۶
[4] القرآن الکریم ۷/ ۱۴۳
[5] تفسیر القرآن العظیم(ابن ابی حاتم)تحت آیۃ ۱۴/ ۴۶ مکتبہ نزار مصطفٰی الباز ۷/ ۲۲۵۲
[6] القاموس المحیط فصل التاء والثاء باب التاء مصطفٰی البابی مصر ۱/ ۱۵۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع