30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور وہ پہاڑ گر جائیں گے ڈھہ کر۔ت)اسی طرح قتادہ شاگرد انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا،ظاہر ہے کہ ڈھہ کر گرنا اُس جنگل سے بھی اُسے نہ نکال دے گا جس میں تھا نہ کہ دنیا سے۔ہاں جما ہوا ساکن مستقر نہ رہے گا تو اُسی کو زوال سے تعبیر فرمایا اور اسی کی نفی زمین سے فرمائی تو وہ ضرور جمی ہوئی ساکن مستقر ہے۔
(ج)رب عزوجل نے سیدنا موسٰی علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم سے فرمایا:
|
" لَنۡ تَرٰىنِیۡ وَلٰکِنِ انۡظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیۡ ۚ "[1] |
تم ہر گز مجھے نہ دیکھو گے ہاں پہاڑ کی طرف دیکھو اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہے تو عنقریب تم مجھے دیکھ لو گے۔ |
پھر فرمایا:
|
" فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ"[2] |
جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی اسے ٹکڑے کردیا اور موسٰی غش کھا کر گرے۔ |
کیا ٹکڑے ہو کر دُنیا سے نکل گیا یا ایشیا یا اُس ملك سے۔اس معنی پر تو ہر گز جگہ سے نہ ٹلا،ہاں وہ خاص محل جس میں جما ہوا تھا وہاں نہ جما رہا،تو معلوم ہوا اسی قدر عدمِ استقرار کو کافی ہے۔اور اوپر گزرا کہ عدمِ استقرار عین زوال ہے زمین بھی جہاں جمی ہوئی ہے وہاں سے سر کے،تو بے شك زائلہ ہوگی اگرچہ دنیا یا مدار سے باہر نہ جائے۔
(د)اس آیہ کریمہ کے نیچے تفسیر ارشاد العقل السلیم میں ہے:
|
وان کان مکرھم فی غایۃ المتانۃ و الشدۃ معد الازالۃ الجبال عن مقار ھا۔[3] |
اگرچہ ان کا مکر مضبوطی اور سختی کی زیادتی کے سبب سے پہاڑوں کو اپنی جگہوں سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔(ت) |
نیشاپوری میں ہے: ازالۃ الجبال عن اماکنھا۔[4](پہاڑوں کو ان کی جگہوں سے ہٹانا۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع