30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمین اگر محور پر حرکت کرتی جنبیدہ ہوتی اور مدار پر تو آئندہ دروندہ بھی بہرحال زائلہ ہوتی اور قرآن عظیم اُس کے زوال کو باطل فرماتا ہے،لاجرم اس سے ہر نوعِ حرکت زائل۔
(۲)کریمہ " وَ اِنۡ کَانَ مَکْرُہُمْ لِتَزُوۡلَ مِنْہُ الْجِبَالُ ﴿۴۶﴾ "[1]ان کا مکر اتنا نہیں جس سے پہاڑ جگہ سے ٹل جائیں،یا اگرچہ اُن کا مکر ایسا بڑا ہو کہ جس سے پہاڑ ٹل جائیں۔یہ قطعًا ہماری ہی مؤید اور ہر گو نہ حرکتِ جبال کی نفی ہے۔
(ا)ہر عاقل بلکہ غبی تك جانتا ہے کہ پہاڑ ثابت ساکن و مستقر ایك جگہ جمے ہوئے ہیں جن کو اصلًا جنبش نہیں۔تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
|
ثبوت الجبل یعرفہ الغبی والذکی۔[2] |
پہاڑ کے ثبوت و قرار کو کندذہن اور تیز ذہن والا دونوں جانتے ہیں۔(ت) |
قرآن عظیم میں ان کو رواسی فرمایا،راسی ایك جگہ جما ہوا پہاڑ،اگر ایك انگل بھی سرك جائے گا قطعًا زال الجبل صادق آئے گا نہ یہ کہ تمام دُنیا میں لڑھکتا پھرے۔اور زال الجبل نہ کہا جائے ثبات و قرار ثابت رہے کہ ابھی دنیا سے آخرت کی طرف گیا ہی نہیں زوال کیسے ہوگیا۔اپنی منقولہ عبارتِ جلالین دیکھئے پہاڑ کے اسی ثبات واستقرار پر شرائع اسلام کو اُس سے تشبیہ دی ہے جن کا ذرہ بھر ہلانا ممکن نہیں۔
(ب)اسی عبارتِ جلالین کا آخر دیکھئے کہ تفسیر دوم پر یہ آیت آیت "m وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا ﴿ۙ۹۰﴾"۔[3]"کے مناسب ہے یعنی ان کی ملعون بات ایسی سخت ہے جس سے قریب تھا کہ پہاڑ ڈھہ کر گر پڑتے۔یوں ہی معالم التنزیل میں ہے:
|
وھومعنی قولہ تعالٰی "وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا ﴿ۙ۹۰﴾"۔[4] |
اور یہی معنی ہے اﷲ تعالی کے اس قول کا اور پہاڑ ڈھہ کر گر پڑتے(ت) |
یہ مضمون ابوعبید وابن جریر و ابن المنذرو ابن ابی حاتم نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا نیز جو یبر ضحاك سے راوی ہوئے کقولہ تعالٰی"m وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا ﴿ۙ۹۰﴾"۔[5]"۔[6] (جیسا کہ اﷲ تعالٰی کا قول
[1] القرآن الکریم ۱۴ /۴۶
[2] عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی حاشیۃ الشہاب تحت آیۃ ۱۴/ ۴۶ دارصادر بیروت ۵/۲۷۷
[3] معالم التنزیل(تفسیر بغوی)تحت آیۃ ۱۹/۹۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/۳۲
[4] معالم التنزیل(تفسیر بغوی)تحت آیۃ ۱۹/۹۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/۳۲
[5] معالم التنزیل(تفسیر بغوی)تحت آیۃ ۱۹/۹۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/۳۲
[6] جامع البیان عن الضحاک (تفسیرابن جریر)تحت آیۃ ۱۴/۱۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/۲۹۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع