30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لسان میں ہے:
|
الازعاج نقیض الاقرار۔[1] |
ازعاج(بے قرار کرنا)اقرار(ایك جگہ ٹھہرانے کی ضد ہے۔(ت) |
تاج میں ہے:
|
قلق الشیئ قلقاوھوان لایستقر فی مکان واحد۔[2] |
قلق الشیئ قلقًا کا معنی یہ ہے کہ شے ایك جگہ میں قرار نہ پکڑے۔ت) |
مفردات امام راغب میں ہے:
|
قرنی مکانہ یقرقرارًا ثبت ثبوتا جامدا واصلہ من القروھو البرد وھو یقتضی السکون والحریقتضی الحرکۃ [3]۔ |
قرنی مکانہ یقرقرارًا کا معنی یہ ہے کہ شیئ اپنی جگہ ثابت ہو کر ٹھہر گئی۔یہ اصل میں مشتق ہے قر سے جس کا معنی سردی ہے اور وہ سکون کا تقاضا کرتی ہے جب کہ گرمی حرکت کی مقتضی ہے۔(ت) |
قاموس میں ہے:
|
قربالمکان ثبت وسکن کا ستقر۔[4] |
قربالمکان کا معنٰی ٹھہرنا اور ساکن ہونا جیسا کہ استقرکا معنٰی بھی یہی ہے۔ت |
دیکھو زوال انزعاج ہے،اور انزعاج قلق مقابل قرار اور سکون ہو تو زوال مقابل سکون ہے اور مقابل سکون نہیں مگر حرکت،تو ہر حرکت زوال ہے۔قرآن عظیم آسمان و زمین کے زوال سے انکار فرماتا ہی،لاجرم اُن کی ہر گونہ حرکت کی نفی فرماتا ہے۔
(د)صراح میں ہے:
|
زائلہ جنبیدہ و روندہ وآئندہ۔[5] |
زائلہ کا معنی جنبش کرنے والا،جانے والا اور آنے والا ہے۔(ت) |
[1] لسان العرب تحت لفظ زعج دارصادر بیروت ۲/ ۲۸۸
[2] تاج العروس فصل القاف تحت لفظ القلق داراحیاء التراث العربی بیروت ۷/ ۵۸
[3] المفردات فی غرائب القرآن القاف مع الراء نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۴۰۶
[4] القاموس المحیط فصل القاف باب الراء مصطفٰی البابی مصر ۲/ ۱۱۹
[5] صراح فصل الزاء باب اللام نولکشور لکھنؤ ص ۳۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع