30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حرکتہ۔[1] |
اس کا زوال زائل ہوا،یعنی اس کی حرکت ختم ہوگئی۔(ت) |
نہایہ ابن اثیر میں ہے:
|
فی حدیث جندب الجھنی "واﷲ لقد خالطہ سھمی ولو کان زائلۃ لتحرک" الزائلۃ کل شیئ من الحیوان یزول عن مکانہ ولا یستقر،وکان ھذا المرمی قد سکن نفسہ لایتحرك لئلا یحس بہ فیجھز علیہ۔[2] |
جُندب جُہنی کی حدیث میں ہے بخدا میرا تیر ا اس میں پیوست ہوگیا،اگر اس میں حرکت کی طاقت ہوتی تو وہ حرکت کرتا زائلہ اس حیوان کو کہتے ہیں جو اپنی جگہ سے ہٹ جائے اور قرار نہ پکڑے۔جس کو تیرلگا تھا اس نے اپنے آپ کو حرکت سے روك لیا تاکہ اس کے بارے میں پتا نہ چل سکے اور اس کو ہلاك نہ کردیا جائے۔ت) |
(ا)دیکھو زوال بمعنی حرکت ہے اور قرآن عظیم نے آسمان و زمین سے اس کی نفی فرمائی تو حرکتِ زمین و حرکتِ آسمان دونوں باطل ہوئیں۔
(ب)"زوال" جانا اور بدلنا ہے،حرکت محوری میں بدلنا ہے۔اور مدار پر حرکت میں جانا بھی،تو دونوں کی نفی ہوئی۔
(ج)نیز نہایہ و درنثیر امام جلال الدین سیوطی میں ہے:
|
الزویل الانزعاج بحیث لایستقرعلی المکان وھو والزوال بمعنی[3]۔ |
زویل کا معنی بے قرار ی ہے اس طور پر کہ کسی ایك جگہ قرار نہ پکڑے۔زویل اور زوال کا معنٰی ایك ہی ہے۔ت) |
قاموس میں ہے:
|
زعجہ واقلقہ وقلعہ من مکانہ کازعجہ فانزعج۔[4] |
اس کو بے قرار و مضطرب کیا اور اس کو اپنی جگہ سے ہٹایا،جیسے اس کو بے قرار کیا،تو وہ بے قرار ہوگیا۔(ت) |
[1] تاج العروس فصل الزاء من باب اللام داراحیاء التراث العربی بیروت ۷/ ۳۶۲
[2] النہایہ فی غریب الحدیث والاثر باب الزاء مع الواو تحت لفظ زوال مکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۲/ ۳۱۹
[3] النہایہ فی غریب الحدیث والاثر باب الزاء مع الواو تحت لفظ زوال مکتبہ الاسلامیہ بیروت ۲/ ۳۲۰
[4] القاموس المحیط فصل الراء والزاء باب الجیم تحت لفظ زعجہ مصطفٰی البابی مصر ۱/ ۱۹۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع