30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علامہ نظام الدین حسن نیشاپوری نے تفسیر ر غائب الفرقان میں اس آیہ کریمہ کی یہ تفسیر فرمائی:(ان تزولا)کراھۃ زوالھما عن مقر ھما ومرکز ھما[1]یعنی اﷲ تعالٰی آسمان و زمین کو روکے ہوئے ہے۔کہ کہیں اپنے مقرو مرکز سے ہٹ نہ جائیں۔مقر ہی کافی تھا کہ جائے قرارو آرام ہے،قرار سکون ہے منافی حرکت قاموس میں آتا ہے۔قر سکن [2]مگر انہوں نے اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس کا عطف تفسیری مرکز ھما زائد کیا مرکز جائے رکز،رکز گاڑنا،جمانا،یعنی آسمان و زمین جہاں جمے ہوئے گڑے ہوئے ہیں وہاں سے نہ سرکیں۔نیز غرائب القرآن میں زیر قولہ تعالی الذی جعل لکم الارض فراشا(اور جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔ت)فرمایا:
|
لایتم الافتراش علیہا مالم تکن ساکنۃ ویکفی فی ذلك ما اعطا ھا خالقھا ورکزفیھا من المیل الطبیعی الی الوسط الحقیقی بقدرتہ،واختیارہ ان اﷲ یمسك السموات والارض ان تزولا۔[3] |
زمین کو بچھونا بنانا اس وقت تك تام نہیں ہوتا جب تك وہ ساکن نہ ہو،اور اس میں کافی ہے وہ جو اﷲ تعالٰی نے اپنی قدرت و اختیار کے ساتھ اس میں وسط حقیقی کی طرف میل طبعی مرتکز فرمایا ہے اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے،بے شك اﷲ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکنے نہ پائیں۔ (ت) |
اسی آیت کے نیچے تفسیر کبیر امام فخر الدین رازی میں ہے۔
|
اعلم ان کون الارض فراشا مشروط بکونھا ساکنۃ، فالارض غیر متحرکۃ لا بالاستدارۃ ولا بالاستقامۃ،و سکون الارض لیس الا من اﷲ تعالی بقدرتہ و اختیارہ ولہذا قال اﷲ تعالٰی ان اﷲ یمسك السموٰت و الارض ان تزولا۔[4]ا ھ ملتقطا |
جان لے کہ زمین کا بچھونا ہونا اس کے ساکن ہونے کے ساتھ مشروط ہے،لہذا زمین نہ تو حرکت مستدیرہ کے ساتھ متحرك ہے اور نہ ہی حرکت مستقیمہ کے ساتھ۔اور اس کا ساکن ہونا محض اﷲ تعالٰی کی قدرت و اختیار سے ہے جیسا کہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا،بے شك اﷲ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سر کنے نہ پائیں۔الخ التقاط(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع