30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے محبوب ومحبِ فقیر ایّدکم اﷲ تعالٰی فی کل حال(اﷲ تعالٰی ہر حال میں آپ کی مدد فرمائے۔ت)جب کافروں کے زوال کے معنٰی ان کا اس دنیا سے دارالاخرۃ میں جانا مسلم ہوا تو معاملہ صاف ہوگیا کیونکہ کافر زمین پر پھرتے چلتے ہیں،اس پھرنے چلنے کا نام زوال نہ ہوا کہ یہ ان کا چلنا پھرنا اپنے اماکن میں ہے کہ جہاں تك اﷲ تعالٰی نے اُن کو حرکت کرنے کا امکان دیا ہے وہاں تك ان کا حرکت کرنا اُن کا زوال نہ ہوا۔یہی حال پہاڑوں کا ہوا کہ ان کا اپنے اماکن سے زائل ہوجانا ان کا زوال ہوا۔جب یہ حال ہے تو زمین کا بھی،اپنے اماکن سے زائل ہوجانا اس کا زوال ہوگا اور اپنے اماکن میں اس کا حرکت کرنا زوال نہیں ہوسکتا۔شکر ہے اس پروردگار کا کہ کسی صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بھی مجھے گریزنہ ہوا اور میری مشکل بھی ازبارگاہ حل المشکلات حل ہوگئی ببرکت کلام کریم
|
" وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ"[1] |
اور جو اﷲ سے ڈرے اﷲ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا۔اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔ (ت) |
اور یہ اس طرح ہوا کہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے آسمان کے سکون فی مکان کی تصریح فرمادی مگر زمین کے بارے میں ایسا نہ فرمایا،یعنی آسمان کی تصریح کی طرح تصریح نہ فرمائی یعنی خاموشی فرمائی قربان جاؤں احسن الخالقین تبارك و تعالٰی کے اور باعثِ خلق عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اور حضرت معلم التحیات رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے کہ سائنس کی سرکوبی کے لیے زمین کے زوال اس کے اماکن سے کَے معنی آپ کے اس تابعدار مجاہدکبیر پر عیاں فرمائے کہ زمین کے زوال نہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جن اماکن میں اﷲ تعالٰی نے اس کو امساك کیا ہے اس سے یہ باہر نہیں سرك سکتی مگر ان اماکن میں اس کو حرکتِ امر کردہ شدہ عطا فرمائی ہوئی ہے جیسے کہ اس پر کافر چلتے پھرتے ہیں اوریہ اُن کا زوال نہیں ہے،اسی طرح سے اپنے مدار میں اور سورج کی ہمراہی میں امساك کردہ شدہ ہے اور جاذبہ اور رفتار کیا ہے صرف اﷲ پاك کے امساك کا ایك ظہور ہے اور کچھ نہیں،اب چاہیں تو جاذبہ اور رفتار دونوں کو معدوم کردیں اور ہر چیز کو اس کے حیز میں ساکن فرمادیں اس سے زائل نہیں ہوسکتی جیسے کہ سورج " وَ الشَّمْسُ تَجْرِیۡ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ؕ"[2] (اور سورج چلتا ہے اپنے ایك ٹھہراؤ کے لیے۔ت)کی رُو سے اپنے مجرے میں امساك کیا گیا ہوا ہے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع