30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
السمٰوٰت والارض)نگاہ میدارد آسمانہاوزمین را(ان تزولا) برائے آنکہ زائل نہ شوند ازاماکن خود چہ ممکن رادرحال بقاناچار است ازنگاہ دارندہ آور دہ اندکہ چوں یہود و نصارٰی عزیر وعیسی رابفرزندی حق سبحنہ نسبت کردند آسمان وزمین نزدیك بآں رسید کہ شگافتہ گرددحق تعالٰی فرمود کہ من بقدرت نگاہ می دارم ایشاں را تازوال نیا بند یعنی از جائے خود نروند[1]ایضا (اولم تکونوا)درجواب ایشاں گویند فرشتگان آیا نبودید شما کہ ازروئے مبالغہ(اقسمتم من قبل)سوگندمے خوردید پیش ازیں دردنیا کہ شما پایندہ وخوابیدہ بودید(مالکم من زوال)نبا شد شماراہیچ زوالے مراد آنست کہ می گفتند کہ مادر دنیا خواہیم بودو بسرائے دیگر نقل نخواہیم نمود[2]وایضًا(وان کان مکرھم)وبدرستیکہ بودمکر ایشاں در سختی و ہول ساختہ پرداختہ (لتزول)تاازجائے برود(منہ الجبال)زاں مکر کوہ ہا۔[3] |
تفسیر حسینی کی عبارت(انّ اﷲ)بے شك اﷲ تعالٰی(یمسك السمٰوت والارض)محفوظ رکھتا ہے۔آسمانوں اور زمین کو (ان تزولا)اس واسطے کہ اپنی جگہوں سے زائل نہ ہوجائیں کیونکہ ممکن کے لیے حالت بقاء میں کسی محافظ کا ہونا ضروری ہے،منقول ہے کہ جب یہودو نصارٰی نے حضرت عزیر او ر حضرت عیسی علیہما السلام کو اﷲ تعالٰی کا بیٹا قرار دیا تو آسمان و زمین پھٹنے کے قریب ہوگئے۔اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ میں اپنی قدرت کے ساتھ ان کو محفوظ رکھتا ہوں تاکہ یہ زوال نہ پائیں یعنی اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں۔اُسی میں ہے اولم تکونوا اقسمتم من قبل)ان کے جواب میں فرشتے بطور مبالغہ کہیں گے کہ کیا تم نے اس سے پہلے دنیا میں قسمیں نہیں کھائی تھیں کہ تم دنیا میں ہمیشہ رہو گے اور سوئے رہو گے مالکم من زوال تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہوگا۔مراد یہ کہ وہ کہتے تھے کہ ہم دنیا میں ہمیشہ رہیں گے اور دوسرے جہاں میں منتقل نہیں ہونگے۔اور اسی میں ہے۔(وان کان مکرھم)یقینا ان کا مکر سختی وہولناکی میں اس حد تك بڑھا ہوا تھا کہ(لتزول منہ الجبال)اس کی وجہ سے پہاڑاپنی جگہ سے ہٹ جاتے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع