30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من زائدۃ(زوال)عنھا الی الاخرۃ۔[1] وایضا(وان) ما(کان مکرھم)وان عظم(لتزول منہ الجبال) المعنی لایعبأ بہ ولا یضرالاانفسھم والمراد بالجبال ھنا قیل حقیقتًا وقیل شرائع الاسلام المشبھۃ بھا فی القراء والثبات وفی قراء ۃ بفتح لام لتزول ورفع الفعل فان مخففۃ والمراد عــــــہ تعظیم مکرھم وقیل المراد بالمکرکفر ھم ویناسبہ علی الثانیۃ تکاد السمٰوٰت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا وعلی الاوّل ما قرئ وما کان[2] وسردارِ من دامت برکاتکم و این است از تفسیر حسینی(ان اﷲ)بدرستیکہ خدائے تعالیٰ(یمسك |
من زائدہ ہے۔(ہٹ کے کہیں جانا)دنیا سے آخرت کی طرف۔ اور یہ بھی اسی میں ہے(اور نہیں ہے ان کا مکر) اگرچہ بہت بڑا ہے۔(کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں)معنٰی یہ ہے کہ اس کا کوئی اعتبار نہیں اور اُن کا نقصان خود انہی کو ہے۔اور یہاں پہاڑوں سے مراد ایك قول کے مطابق حقیقتًا خود پہاڑ ہیں،اور ایك قول کے مطابق احکام شرع ہیں جن کو قرار و ثبات میں پہاڑوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔اور جس قراء ۃ میں لتزول کا لام مفتوح اور فعل مرفوع ہے اس قراء ۃ میں "ان" مخففہ ہوگا اور مراد ان کے مکرکی بڑائی۔اور کہا گیا کہ مکر سے مراد ان کا کفر ہے۔اور قراء ۃ ثانیہ کی صورت میں اس قول کی تائید قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ کرتی ہے۔ (قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پریں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھہ کر)اور اول کی صورت میں جو پڑھا گیا ہے وما کان یعنی نہیں تھا۔(ان کا مکر)اور میرے سردار آپ کی برکتیں ہمیشہ رہیں،یہ ہے |
|
عــــــہ:والمعنی ولان کان مکرھم من الشدۃ بحیث تزول عنھا الجبال وتنقطع عن اماکنھا [3] ۱۲ کمالین۔ |
معنی یہ ہے کہ ان کامکر اس قدر شدید ہے کہ اس سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں۔۱۲ کمالین(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع