30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ینفعہ مالم یرجع عمّا قال اذلا یرتفع بھما کفرہ، کذا فی البزاز یۃ و جامِع الفصولین اھ [1]۔ |
اُس کو نفع نہ دے گا جب تك اپنے قول سے رجوع نہ کیونکہ اتیانِ شہادتیں سے اُس کا کفر مرتفع نہ ہوگا بزازیہ اور جامع الفصولین میں یونہی ہے اھ(ت) |
اور ضرور ہے کہ جس طرح کتاب چھاپ کر اِن کفریات و ضلالات کی اشاعت کی یوں ہی اِن سے بّری اوراپنی توبہ کا اعلان کرے کہ آشکارا گناہ کی توبہ بھی آشکارا ہوتی ہے۔امام احمد کتاب الزہد،اور طبرانی معجم کبیر میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی،حضور سیدنا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اذا عملت سیّئۃ فاحدث عندھا توبۃ،السّر بالسّروال علانیۃ بالعلانیۃ [2] قلتُ:واسنادہ حسنع لٰی اصول الحنیفۃ۔ |
جب تو کوئی گناہ کرے تو فورًا تو بہ بجالا،پوشیدہ کی پوشیدہ اور ظاہر کی ظاہر۔ میں کہتا ہوں اصولِ حنیفہ کے مطابق اس کا اسناد حسن ہے۔ (ت) |
اور اِس کتاب تباہ خراب کی نسبت میں وہ نہیں کہتا جو بعض علمائے حنیفہ وشافعیہ کتب منطقیۃ کی نسبت فرماتے ہیں کہ ان کے جو ورق نامِ خدا ورسول اﷲ سے خالی ہوں ان سے استنجاء روا۔شرح فقہ اکبر میں ہے:
|
لوکان الکتاب فی المنطق ونحوہ،تجوزا اھانتہ فی الشریعۃ،حتّٰی افتٰی بعض الحنفیۃ وکذا بعض الشافعیۃ بجواز الاستنجاء بہ اذا کان خالیا عن ذکر اﷲ تعالٰی مع الاتفاق علٰی عدم جواز الاستنجاء بالورق الابیض الخالی عن الکتابۃ اھ [3] مُلَخَّصًا |
اگر منطق وغیرہ میں کوئی کتاب ہو تو شریعت میں اس کی توہین کرنا جائز ہے یہاں تك کہ بعض حنفیوں نے یوں ہی بعض شافیوں نے اس کے ساتھ استنجاء کے جواز کا فتوٰی دیا ہے بشرطیکہ وہ اﷲ تعالٰی کے ذکر سے خالی ہو باوجود یہ کہ کتاب سے خالی سفید کاغذ کے ساتھ استنجاء کے عدمِ جواز پر اتفاق ہے اھ تلخیص(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع