30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اَیّمَا استعظام* فرقًا من ان تکون ھناك دقیقۃ عمیقۃ لم یصلہا فھمی،او شاذۃ فاذّۃ لم یحط بھا علمی * فاستخرت المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی و جعلت اراجع الکتب واقلب الاوراق * حتی اکملت الجد وانھیت الجھد حسب مایطاق * وصرفت فیہ یومین کاملین * فلم ارشیئا تقرُّ بہ العین * بل کلمّا تو غلّت فی تتبع الاسفار * تتابع الاقوال تؤید الاکفار * الٰی ان وقفت علی معظم المسائل * وعامۃ الفروع فی کتاب الاماثل * من اصحابنا الحنفیۃ * وعمائد الشافعیۃ *وزعائم المالکیۃ * والذی تیسر من کلمات الحنبلیۃ * فاذاھی جمعا کما ھی علیحدۃ * کانھا ترمی عن قوس واحدۃ * فایقنت ان لیس للرّجل محیص * ولا عن الحکم بالاکفار مفیص * اللھم الا حکایۃ ضعیفۃً عن بعض علمائنا فی الجامع الاصغر * انّ عقد الخَلد ھوالمعتبر * اوردھا ثم ردّھا ثم ردھا ______ ولکن زدتُّ بھا تلعثما* و ودِدت الوقوف ھناك تاثُّما علمًا منی بان الخلاف وان کان ضعیفا ھھنا کافٍ__فامعنت النظر وانعمت |
کرتے ہوئے کہ ہوسکتا ہے یہاں گہرا باریك علمی نکتہ ہو جس تك میری دانش نہ پہنچی ہو یا کوئی الگ تھلگ،علمی بات جس کو میرا علم حاوی نہ ہوا ہو،تو میں نے مولٰی سبحنہ،وتعالٰی سے استخارہ کیا اور کتابوں کی طرف مراجعت اور ورق گردانی کرنے لگا،یہاں تك کہ میں نے اپنی پوری کوشش کرلی اور مقدور بھر انتہائی محنت و مشقت کو بروئے کار لایا۔اور اس میں پورے دو دن صرف کردیئے۔اس کے باوجود میں نے کوئی ایسی شے نہ پائی جس سے آنکھ ٹھنڈی ہوتی بلکہ جب بھی کتابوں کی تلاش میں منہمك ہوا،پے درپے تکفیر کے مؤید اقوال ہی پائے۔یہاں تك میں نے حنفی،شافعی،مالکی اور حنبلی فقہاء کرام اور علماء عظام کی کتب میں بہت سے عظیم مسائل اور عام فروع پر واقفیت حاصل کی تو وہ مجموعی طور پر بھی ایسے ہی ہیں جیسے الگ الگ گویا کہ وہ سب ایك ہی کمان سے تیر اندازی کرتے ہیں۔چنانچہ میں نے یقین کرلیا کہ اُس شخص کے لیے کوئی جائے فرار نہیں اور نہ ہی حکم تکفیر سے ہٹنے کی گنجائش ہے۔اے اﷲ ! مگر ایك ضعیف روایت جو ہمارے بعض علماء سے جامع اصغر میں منقول ہے وہ یہ کہ ارادہ قلبی معتبر ہے،جامع اصغرمیں اس کو وارد کیا پھر اُس کا خوب رَد کیا۔لیکن میں نے اُس میں زیادہ سوچ بچار کی اور گناہ سے بچنے کے لیے توقف کو پسند کیا یہ سمجھتے ہوئے کہ مخالفت اگرچہ کمزور ہے مگر یہاں کافی ہے۔چنانچہ میں نے گہری نظر ڈالی اور فکر میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع