30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ومنہامالا امتراء فی کونہ کفرا____ لکن نشافی مطاوی المقال مااخرجہ عن حدّالافصاح ÷ ووقع بہ التجاذب فی اِعطاء الکفرالبواح÷ کلفظۃ "عندھم" فی القول السادس ____ فربما جاء للتبری،وان کان الظاھر ثمّہ خلاف ذٰلک،عندالعارف باسالیب الکلام ___وھٰذان القسمان لااکفار بھما عند المحققین۔ امّا الثانی:فواضح،لان من یشھدبالشہادتین فقد ثبت اسلامہ بیقین،والیقین لایزول بالشک[1]__ وقد روی ذٰلك عن ائمتنا،کما فی حاشیۃ السیداحمد الطحطاوی عن البحرالرائق عن جامع الفصولین عن الامام الطحاوی عن الاجلۃ الاصحاب رضی اﷲ تعالٰی عنہم، واما الاول فلما صرّح الائمۃ الاثبات ان التکفیرا مرعظیم،وخطرالاثبات ان التکفیرامرعظیم، و خطر جسیم کلحم جمل غثّہ علٰی راس جبل وعر، لا سھل فیرتقی،ولا سمین فینتقی__ مسالکہ عسیرۃ و مھالکہ کثیرۃ ___فالذی |
اور بعض اقوال ایسے ہیں جن کے کفر ہونے میں کوئی شك نہیں،لیکن اثناء کلام میں کوئی ایسا قرینہ پایا گیا جو اس کو کفرصریحی کی حد سے خارج کردیتا ہے۔اور اس کی وجہ سے قائل پر ظاہری کفر کا حکم لگانے میں باہم کشمکش واقع ہوجاتی ہے جیسے قول ششم میں لفظ "عندھم" بسا اوقات یہ لفظ برا ء ت کے لیے آتا ہے،اگر چہ اسالیب کلام کے ماہر کے نزدیك وہاں بظاہر اس کے خلاف ہے۔ان دونوں قسموں پر محققین کے نزدیك تکفیر نہیں کی جاتی۔ قسم ثانی تو واضح ہے کیونکہ جو توحید و رسالت کی شہادت دے دے اس کا اسلام یقینی طور پر ثابت ہوجاتا ہے۔اور یقین شك کے ساتھ زائل نہیں ہوتا۔تحقیق ہمارے آئمہ کرام سے یہی مروی ہے جیسا کہ سید احمد طحطاوی کے حاشیہ میں البحرالرائق سے بحوالہ جامع الفصولین مذکور ہے،جامع الفصولین نے امام طحاوی سے اور انہیں جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔ رہی قسم اول تو وہ اس لیے کہ متجرائمہ کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ بے شك تکفیر ایك عظیم اور بہت زیادہ ہلاکت میں ڈالنے والا معاملہ ہے۔جیسے لاغروانٹ کا گوشت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر پڑا ہو،نہ راستہ آسان کہ چڑھاجائے اور نہ ہی وہ گوشت طاقتور کہ اس کے لیے مشقت اٹھائی جائے،اس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع