30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والسماء والطارق oقیل یکفر،وقال الامام ابوبکر بن اسحٰق رحمۃ اﷲ تعالٰی ان کان القائل جاھلا، لا یکفر، زوان کان عالما یکفر۔واذقال:قاعًا صفصفا شدہ است فھٰذہ مخاطرۃ عظیمۃ۔واذ قال لباقی القدر: والبقٰیت الصّٰلحٰت۔فھٰذہ مخاطرۃ عظیمۃ،کذا فی الفصول العمادیۃ۔[1] |
کردیا ہے کہ جیسے والسماء والطارق(آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی)تو کہا گیا ہی کہ کافر ہوجائے گا۔اور امام ابوبکر بن اسحاق علیہ الرحمۃ نے کہا کہ اگر قائل جاہل ہے تو کافر نہ ہوگا اور اگر عاصم ہے تو کافر ہوجائے گا۔اور اگر کہا کہ قاعا صفصفا(کھلا ہموار میدان)ہوگیا ہے تو یہ خود کو عظیم خطرہ میں ڈالنا ہے۔اور جب ہنڈیا کی کھرچن یا بقیہ کے کے بارے میں کہا والباقیات الصالحات(باقی رہنے والے نیك کام)تو یہ خود کو عظیم خطرہ میں ڈالنا ہے۔فصول عماویہ میں یوں ہی ہے۔(ت) |
تتمۃ الفتاوٰی میں ہے:
|
من استعمل کلام اﷲ تعالٰی فی بدل کلامہ کمن قال فی ازدحام الناس فجمعنٰھم جمعا کفر[2]۔ |
جس نے اپنے کلام کے بدلے میں اﷲ تعالٰی کے کلام کو استعمال کیا تو کافر ہوجائےگا۔جیسے لوگوں کے ہجوم کے بارے میں کہا فجمعنٰھم جمعًا(تو ہم ان سب کو اکٹھا کر لائیں گے۔ت) |
محیط میں ہے:
|
من جمع اھل موضعٍ وقال:وحشر نٰھم فلم نغادر منھم احدا oاوقال فجمعنٰھم جمعاoکفر[3]۔ |
جس نے کسی بستی کے لوگوں کو جمع کیا اور کہا وحشرنھم فلم نغاد رمنھم احدًا(اور ہم ان کو جمع کریں گے تو ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے)یا کہا فجمعنٰہم جمعًا(تو ہم ان سب کو اکٹھا کر لائیں گے)تو کافر ہوجائے گا۔(ت) |
فاضل علی بن سلطان محمد مکی اس کی تعلیل میں فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع