30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب برتقدیر توصیف چلیے،یعنی ناطق کو تنوین دے کر _____ اس صورت میں من تواصلًا چسپاں نہیں،مگر بہ ارتکابِ تمحل کہ تعلیلیہ ٹھہرائیں اور لاجل کے معنی میں لے کر لناطِق کے قریب لے جائیں۔
بہرحال اس ترکیب میں النّالہ الحدید کی ضمیر متکلم سے ذاتِ مصنف مراد ہوگی،کما لایخفٰی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ت) اور ناطق سے وہی طلبہ ونُظار _____ اور حدید سے مطالب عولصیہ،اور انکی الانت سے ایضاح وابانت_____ حاصل یہ کہ "منطق جدید اُس ناطق کے لیے،جس کے واسطے ہم نے مطالبِ مُشکلہ حل کردیئے"۔
اس معنی میں ناواقف کو کوئی محذور نظر نہ آئے مگر ہیہات۔۔۔ عــــــہ ۔۔۔یہاں محذور شدید باقی ہے _____ کلام الہی تعالت عظیمتہ(جس کی عظمت بلند ہے۔ت)کا اپنے کلام کے عوض ایسا استعمال شرعًا حرام و وبال و نکال _____ یہاں تك کہ بہت فقہائے کرام نے حکم کفر دیا۔والعیاذ باﷲ سبحنہ وتعالٰی(اور اﷲ سبحنہ و تعالٰی کی پناہ۔ت)_____ اور وجہ تحریم ظاہری وواضح۔
ذرا اپنے رب تبارك و تعالٰی کی عظمت پیش نظر رکھ کر خیال کرے کہ النالہ الحدید کس نے فرمایا ؟ اور ضمیر نا سے کون سی ذاتِ پاك مراد ؟ اور لہ میں کس جلیل القدر کی طرف ضمیر،اور مضمون جملہ کس امر عظیم سے تعبیر ؟ _____اب اُسی کلام کو کون شخص کس طرح اپنے استعمال میں لاتا،اور ضمیر نَا سے خدا کے عوض کس ذلیل حقیر کو مراد لیتا۔اور کنایہ لہ نبی اﷲ کے بدلے کس کی طرف پھیرتا۔اور عز ت والی بات کو،جس کی قدر خدا اور رسول ہی خوب جانتے ہیں،کس بے ہودہ بات پر ڈھالتا ہے۔
ع حقّا کہ تاج شاہی کناس رانہ زبید
(حق یہ ہے کہ بادشاہ کا تاج جھاڑو پھیرنے والے کے سر پر زیب نہیں دیتا)
یاھذا:حق بات اپنے مقابل کم سمجھ میں آتی ہے کہ نفس آمادہ رفع وانتصار ہوتا ہے۔دوسروں پر خیا ل کرکے دیکھ۔مثلًا زید عمرو کو مالِ کثیر دے کر کہے کہ " اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾"[1] (اے محبوب ! ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائے۔ت)کیا نہ کہا جائے گا کہ اس نے خدا و کلام خدا اور رسول خدا کی قدر نہ جانی۔
حاش اﷲ کہاں خدا،کہاں زید _____ کجا حضور،کجا عمرو _____ کہاں کوثر،کہاں زر _____!
یا عمرو نے زید کو کہیں بھیجا_____بکر نے پوچھا کس کے حکم سے گیا تھا؟_____ عمرو بولا: "اَمْرًا مِّنْ عِنۡدِنَا ؕ اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیۡنَ ۚ﴿۵﴾ "[2]۔ (ہمارے پاس کے حکم سے بے شك ہم بھیجنے والے ہیں۔ت)
عــــــہ:لایبدو وما ھنا فی المخطوطۃ صافیا ۱۲ محمد احمد)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع