30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فائدہ:یہاں سے ظاہر ہوا کہ عدم وُرُود سے قطع نظر کرکے اِطلاقِ "نطق" باری عزوجل پر لُغۃً بھی غلط۔بخلاف کلام و قول کہ ان میں حرف و صورت شرط نہیں۔
امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ثقیفہ میں فرماتے ہیں:
|
زَوَّرْتُ فِیْ نَفْسِیْ،مَقَالَۃً [1]۔ |
میں نے اپنی دل میں ایك مقالہ تیار کیا(ت) |
اخطل کا شعر ہے: ؎
اِنّ الکلام لی الفؤادو انَّما
جُعِل اللسان علی الفؤاد دلیلا۔[2]
(بے شك کلام دل میں ہوتا ہے،زبان کو توفقط دل پر دلیل بنایا گیا ہے۔(ت)
ولہذا نَطقْتُ فی نفسی نہیں کہہ سکتے۔حقیقتہً نُطقِ اس بولی کا نام ہی جیسے صَہیل و نہیق آواز مخصوصِ اسپ و خرکا،اِسی لیے سفہائے فلسفہ نے انسان کی تعریف حیوانِ ناطق سے کی۔جس طرح فرس و حمار کی،حیوانِ صاہل و ناہق سے۔پھر اُسی حدِّ تام بنانے کے لیے متاخرین نے نُطق کے معنی ادراك کلیات گھڑے مگر صہیل و نہیق میں کوئی تراش نہ کرسکے۔
" ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ ؕ"[3]" اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾"[4]۔(یہاں تك ان کے علم کی پہنچ چکی ہے،یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ت)
وجہ دوم:اگر مصنف کتاب دور از کار،اضافت بہ ادنٰی ملابست مان کر،اس لفظ سے اپنی ذات مراد بتائے۔تو البتہ نسبت صحیح ومحذورات مذکورہ مندفع ____ مگر:
اولا:بے داعی شرعی،روزمرہ باہمی میں،خلاف متبادرمراد لینے کو علامہ آفات لسان سے شمار کرتے ہیں۔طریقہ وحدیقہ میں ہے:
|
الخامس من آفات اللسان ارادۃ غیر ظاھر المتبادر من الکلام(الذی یفھمہ،کل احد)وھو جائز عند |
آفات زبان میں سے پانچویں آفت کلام کے ظاہر ومتبادر معنی جس کو ہرکوئی سمجھتاہے کے غیر کا ارادہ کرنا،اور بوقت ضرورت جائز ہے جیسے جھوٹ بولنا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع