30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاکفرنا ھم،مع انھم لایعتقدون قدمھا بالمعنی المذکور لانھا ایضًا لیست عندھم من الزمانیات، فاذن لانعنی بہ الا انّ الشیئ لابدایۃ لوجودہ کما نقصد بالابدیۃ ان لانھایۃ لخلودہ،وھذا ظاھر جلی و قد صرّح بہ آئمۃ الکلام کالامامِ الرّازی وغیرہ۔ و آذاکان الامر کما وصفنالک،والاعدام الزماتیّۃ لا تزید عندك علٰی غیبۃٍ وخفاءٍ فاذن ما نظنہ اٰن الحدوث واٰن الفَناء لیسا بھما،ولا بھما بدایۃ الوجود ونھایتہ وانما ھما اٰنابدایۃ الظھور وانتھاءہ،امّا الوجود الواقعی فلا اول لہ ولا اٰخر،اذلیس فی الدھر علی القول بہ امکان یسع "یکون وقد کان" فماخلت عنہ الصفحۃ لایرتسم فیھا ابدا،وما ارتسم فیھا مرّۃً لاینمحقُ عنھا اصلا،فلابد انّ کل موجودٍ کان مستقرًا فیھا من الازل،ویبقٰی مستمرًّا الی الابد، فثبت ان لابدایۃ لوجودالعالم ولانھایۃ، وھذا ما اردنا الالزام بہ،یقول العبدالضعیف |
انہیں کافر قرار دیا باوجود یہ کہ وہ معنی مذکور کے ساتھ عقول کے قدیم ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتے،کیونکہ ان کے نزدیك عقول بھی زمانیات میں سے نہیں ہیں۔تو اب قدیم ہونے سے ہماری مراد فقط یہ ہے کہ شیئ کے وجود کی ابتداء نہ ہو جیسا کہ ہم ابدیت سے اس معنی کا قصد کرتے ہیں کہ اس کی خلود کی انتہا نہ ہو۔اور یہ خوب ظاہر ہے۔تحقیق اس کی تصریح فرمائی ہے آئمہ کلام نے جیسے امام رازی وغیرہ۔اور جب معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ہم نے تیرے لیے بیان کیا اور اعدام زمانیہ تیرے نزدیك حجاب و خفاء سے بڑھ کر نہیں ہیں تو اس صورت میں لازم آئے ا کہ جس کو ہم آنِ حدوث اور آنِ فناء گمان کرتے ہیں وہ آن حدوث و آنِ فناء نہ ہوں اور نہ ہی اُن سے وجود کی ابتداء وانتہاء ہو بلکہ وہ تو ظہور کی آن ہدایت و آن نہایت ہوں گی۔رہا وجودِ واقعی تو اس کا نہ اول ہے نہ آخر،کیونکہ اس قول کی بنیاد پر دہر میں کوئی امکان نہیں جو ہوسکتا ہو اور ہوچکا ہو۔ چنانچہ جس شے سے صفحہ دہر خالی ہے وہ کبھی بھی صفحہ دہر میں مرتسم نہیں ہوگا اور جو اس میں ایك مرتبہ مرتسم ہوگیا ہے وہ کبھی بھی اس سے نہیں مٹے گا۔لہذا ضروری ہے کہ ہر موجود اس میں ازل سے مستقر ہواور ابد تك مسلسل باقی رہے۔تو ثابت ہوگیا کہ وجود عالم کی نہ ابتداء ہے نہ انتہاء۔اور یہ ہی وہ الزام ہے جس کا ہم نے ارادہ کیا تھا۔عبدضعیف کہتا ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع