30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
"وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾"[1] |
کچھ منہ اُس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھتے۔ |
یعنی اُس کی رحمت کی اُمید رکھتے رُویت الہی نہ ہوئے،الٰی غیر ذٰلك من الجھالات الکثیفۃ والضلالات الخسیفۃ(اس کے علاوہ بھاری جہالتوں اورذلیل گمراہیوں سے۔ت)۔
پھر کیا یہ تاویلیں اُن کے کام آئیں اور انہیں بدعتی ہونے سے بچالیا؟ _______ تاہم وزن سے جانچ اور منہ دیکھنے سے امید واری مراد ہونا اتنا بعید نہیں جس قدر بے لگاؤ تحریفیں اس مُتفلسف کو کرنی پڑیں گی۔کما لایخفٰی _______ واﷲ الھادی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں،اور اﷲ ہی ہادی ہے۔ت)
شِفا شریف میں باطنیہ وغیرہم غُلَاۃ کو ذکر کرکے فرماتے ہیں:
|
زعمواانّ ظواھر الشرع لیس منھا شیئ علٰی مقتضٰی ومفھوم خطابھا وانما خاطبوابھا الخلق علٰی جہۃ المصلحۃ لھم اذلم یمکنھم التصریح لقصور افھامھم فمضمن مقالاتھم ابطال الشرائع وتکذیب الرسل والارتیابُ فیما اتوابہ اھ ملخصًا [2]۔ |
انہیں(باطنیہ)نے گمان کیا کہ نصوصِ شرع اپنے ظاہر ی الفاظ و خطاب کے مقتضٰی پر نہیں،ر سولوں نے تو مخلوق کو محض ان کی مصلحت کے اعتبار سے خطاب کیا کیونکہ مخلوق کی کم فہمی کی و جہ سے رسولوں کے لیے تصریح کرناممکن نہ تھا۔ان لوگوں کو(باطنیہ)کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ احکامِ شرع باطل ہو جائیں،رسولوں کی تکذیب ہوجائے اور رسولوں کے لائے ہوئے احکام میں شك و شبہ پیدا ہوجائے اھ تلخصیص(ت) |
اہل سنت کا اجماع ہے کہ نصوص اپنے ظاہر پر حمل کیے جائیں اور ان میں پھر پھار حرام و نابہ کار کماصُرِّحَ بِہ فی کتب العقائد متنًا وشرحًا(جیسا کہ کتب عقائد چاہے متن ہوں یا شرح میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت)
ثانیًا: جب وعائے دہر میں باقی رہنا حقیقۃً وجود ٹھہرا،اور اَعدامِ زمانیہ محض حجاب وخفا،تو لازم آیا کہ حضرت حق جل وعلا کسی موجود کو معدوم نہ کرسکے۔اور اس کی مخلوق پر اس کا قابو نہ رہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع