30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" سَیَکْفُرُوۡنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِمْ ضِدًّا ﴿٪۸۲﴾ "[1] |
عنقریب وہ ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔(ت) |
اِعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
|
من ادّعٰی علم الغیب فی قضیّۃ اوقضایالایکفر ومن ادّعٰی علمہ فی سائر القضایا کفر[2] |
جس نے ایك قضیہ یا چند قضایا میں علم غیب کا دعوٰی کیا وہ کافر نہ ہوگا۔اور جس نے تمام قضایا میں اپنے علم کا دعوٰی کیا وہ کافر ہوجائے گا۔(ت) |
اور اسی میں علمائے حنیفہ سے کفر مُتَّفَق علیہ کی فصل میں منقول:
|
اووصف محدثا بصفاتہ او اسمائہ الخ [3] |
یا کسی حادث کو اﷲ تعالٰی کی صفات یا اس کے اسماء کے ساتھ متصف کیا الخ(ت) |
غرض حکمِ مسئلہ واضح ہے۔صرف محل نظر اس قدر کو یہاں زید نے لفظ عندھم لکھ دیا کہ صراحۃً حکایت پر دال۔اقول:مگر قطع نظر اس سے کہ جملۂ لایمکن ان لایعلم العقل الا ول مثلًا الخ(یہ ناممکن ہے کہ مثلًا عقل اوّل کو علم نہ ہوا الخ۔ت)کہ خود وکفر جلی ہے،داخل حکایت نہیں،بلکہ تنزہ تام پر تفریح ہے کما یشھد بہ سوقُ البیان(جیسا کہ سیاقِ بیان اس پر شاہد ہے۔ت)عجب کرتا ہوں کہ یہ اسے مفید ہوا۔اس نے مجردات کا جزئیات مادیہ کو بروجہ جزئی جاننا اپنا مذہب محقق بتایا۔اور اس کی حقانیت پر اس قول کو دلیل ٹھہرایا،تو وہ یہاں محض محل نقل وحکایت میں نہیں،بلکہ مقام تمسّك واستناد میں ہے۔وہ بھی مجیبًا و منتصرًا نہ سائلًا وصائلًا۔تو یہ صاف اَمارتِ رضا و قبول ہے کما لایخفٰی علٰی کل عاقل،فضلًا عن فاضلٍ(جیسا کہ ہر عاقل پر پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ فاضل پر پوشیدہ ہو۔ت)علاوہ بریں ہم ثابت کرآئے کہ ایسے اقوال کا بہ تصریحِ حکایت بیان کرنا بھی حلال نہیں جب تك مقرون بہ رَدّو انکار نہ ہو۔
وبعداللتیّا والتّی اس قول کی شناعت و بشاعت میں شك نہیں۔تَدَبَرتَدر(غور کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع