30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے سوا۔وقال تعالٰی: " اِلَیۡہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ ؕ"۔[1]اسی کی طرف پھیرا جاتا ہی علم قیامت کا
وقال تعالٰی:" وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾ قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنۡدَ اللہِ ۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۶﴾ [2]" ۔ کافر کہتے ہیں یہ قیامت کا وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔تو فرما اس کا علم تو خدا ہی کو ہے،اور میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں صاف صاف۔
وقال تعالٰی: " وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنْ عِلْمِہٖۤ اِلَّا بِمَاشَآءَۚ"[3]۔نہیں گھیرتے اُس کے علم سے کچھ،مگر جتنا وہ چاہے۔
وقال تعالٰی حکایۃً عن ملئکتہ: " سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الْعَلِیۡمُ الْحَکِیۡمُ﴿۳۲﴾"[4]پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔بے شك تو ہی ہے دانا،حکمت والا۔
سبحن اﷲ ! متفلسفہ کہتے ہیں کہ عقولِ عشرہ ملئکہ سے عبارت ہے۔اگرچہ یہ بات محص غلط،کہ جوامور وہ بے عقول اِن دس عقول کے لیے ثابت کرتے ہیں،صفات ملئکہ سے اصلًا علاقہ نہیں رکھتے۔ولا اکذب ممن کذبہ القرآن(اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹا نہیں جس کو قرآن نے جھوٹا قرار دیا۔ت)بلکہ یہ صرف اُن سُفہاء کے اوہامِ تراشیدہ ہیں جن کی اصل نام کو نہیں۔
|
" اِنْ ہِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللہُ بِہَا مِنۡ سُلْطٰنٍ ؕ"[5] |
وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں۔اﷲ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔(ت) |
تاہم اگر مان لیں اور یوں سمجھیں کہ مشرکین عرب نے شانِ املاک(فرشتے)میں غُلو کے ساتھ تفریط بھی کی کہ انہیں عورتیں ٹھہرایا۔کفارِ یونان نے وہ افراط خالص بنایا کہ اوصافِ خُلق سے متعالی بتایا۔تو اب اس آیہ کریمہ سے اُن عقول کی حالتِ ادراك کیجئے۔
کس طرح اِن احمقوں کو جھٹلاتے،اور اپنے مالك کے حضور اپنے عجزو بے علمی کا اقرار لاتے،اور پاکی و قدوسی اُس کے وجہِ کریمہ کے لیے خاص ٹھہراتے ہیں۔صدق اﷲ تعالٰی:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع