30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اعلم انّ الامۃ قد اجمعت اجماعًا مرکبا علٰی ان اﷲ تعالٰی لایفعل القبیح ولا یترك الواجب،فالاشاعرۃ من جہۃ انہ لاقبیح منہ ولا واجب علیہ،واما المعتزلۃ فمن جہۃ انہ ما ھو قبیح یترکہ وما یجب علیہ یفعلہ۔ونحن قد بینا فیما تقدم انہ تعالٰی الحاکم فیحکم بما یرید ویفعل مایشاء،لاوجوب علیہ کما لاوجوب عنہ ولا استقباح منہ [1] ا ھ ملتقطا۔ |
تُو جان لے کہ اُمت کا اس پر اجماع مرکب ہوچکا ہے کہ بے شك اﷲ تعالٰی فعل قبیح نہیں کرتا اور نہ واجب کو ترك فرماتا ہے۔اشاعرہ تو اس جہت سے کہتے ہیں کہ جو کچھ اس کی طرف سے ہو وہ قبیح نہیں اور اس پر کچھ واجب نہیں،اور معتزلہ اس جہت سے کہ جو قبیح ہے وہ اس کو ترك کرتا ہے اور جو واجب ہے وہ اس کو کرتا ہے۔اور بے شك ہم ماقبل میں واضح کرچکے ہیں کہ اﷲ تعالٰی حاکم سے جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے اس پر کچھ واجب نہیں جیسا کہ اس سے کچھ واجب نہیں اور نہ ہی اس کیطرف سے کچھ قبیح ہے اھ التقاط(ت) |
مولٰی ناصح محمد آفندی برکلی طریقہ محمدیہ و سیدی عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی اس کی شرح حدیقہ،ندیہ میں فرماتے ہیں:
|
لایلزم علیہ تعالٰی شیئ من فعل صلاحٍ او اصلح، او فساد اور افسد بل ھوالفاعل العدل المختار، و یخلق اﷲ مایشاء و یختا ر [2] اھ مختصرًا۔ |
اﷲ تعالٰی پر فعل صلاح یا اصلح یا فساد یا افسد میں سے کچھ بھی لازم نہیں بلکہ وہ فاعل عادل،مختار ہے اور جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور پسند فرماتا ہے اھ اختصار(ت) |
شرح عقائد نسفی میں ہے:
|
لیت شعری مامعنٰی وجوب الشیئ علی اﷲ تعالٰی، اذ لیس معناہ استحقاق تارکہ الذم والعقاب،وھو ظاھر، ولا لزوم صدورہ عنہ تعالٰی بحیث لایتمکن من الترك بناءً علی استلزامہ |
کاش میرا علم حاضر ہو،اﷲ تعالٰی پر کسی شیئ کے واجب ہونے کا کیا معنی ہے اس لیے کہ یہاں یہ معنی تو ہو نہیں سکتا کہ اس کا تارك ذم وعقاب کا مستحق ہے اور وہ ظاہر ہے اور نہ ہی یہ معنی ہوسکتا ہے کہ اس واجب کا صدور اﷲ تعالی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع