30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقال تعالٰی:
|
" وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ؕ مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ؕ سُبْحٰنَ اللہِ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿۶۸﴾ "[1] |
اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہی ان کا کچھ اختیار نہیں،پاکی اور برتری ہے اﷲ کو ان کے شرك سے-(ت) |
واضح تر کہوں_____ حاصل مذہب اہل سنت یہ ہے کہ تمام مقدورات اس جنابِ رفیع کے حضور یکساں ہیں۔کوئی اپنی ذات سے کچھ استحقاق نہیں رکھتا کہ ایك کو راحج دوسرے کو مرجوع کہیں۔علامہ سنّوسی شرح جزائریہ میں فرماتے ہیں:
|
ان الذی اوقع المعتزلۃ فی الضلالات،کا یجاب الثواب وفعل الصلاح ولاصلح علی اﷲ اعتمادُ ھم فی عقائد ھم علی التحسین والتقبیح العقلیین،وقیاسھم افعالَ اﷲ تعالٰی واحکامہ علٰی افعال المخلوقین و احکامھم،من غیران یکون فی ذلك جامع یقتضی التسویۃ فی الاحکام،والذی اجمع علیہ اھلُ الحق انَّ الافعال کلھا مستویۃ بالنّسبۃ الٰی تعلق قُدرۃ اﷲ تعالٰی وارادتہ عــــــہ بھا [2]۔ |
جس چیز نے معتزلہ کو اﷲ تعالٰی پر ثواب اور فعل صلاح و اصلح کے واجب قرار دینے جیسی گمراہیوں میں ڈالا وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے عقائد میں حسن و قبح کے عقلی ہونے پر اعتماد کیا۔اور اﷲ تعالٰی کے افعال و احکام کو مخلوق کے افعال و احکام پر قیاس کیا حالانکہ کوئی ایسا امر جامع موجود نہیں جو احکام میں برابر ی کا مقتضی ہو،اور جس پر اہل حق کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ بے شك اﷲ تعالٰی کی قدرت وارادہ کے ساتھ متعلق ہونے میں تمام افعال برابر ہیں۔(ت) |
|
عــــــہ:ای فیقدر علٰی کل شیئ ویفعل مایرید لاترجیح قبل ارادتہ وانما الترجیح بارادتہ فہی موجبۃ |
یعنی وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے اس کے ارادہ سے پہلے کوئی ترجیح نہیں،ترجیح تو فقط اس کے ارادہ کی وجہ سے ہوتی ہے، (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع