30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہا یہ کہ فلاسفہ کے طور پر کہا،اقول:سچ ہے،ہم کب کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے طور پر کہا،آخر جو کلمہ کفر کہا جائے گا والعیاذ باﷲ تعالٰی(اﷲ تعالٰی کی پناہ ت)وہ غالبًا کسی نہ کسی فرقہ کافرہ کے طور پر ہوگا۔پھر کیا اس قدر اس حکم سے نجات دے سکتا ہے؟ _____حاشا و کلّا(ہر گز ہر گز نہیں۔ت)
زید متفلسِف سے استفسار کیجئے،بھلا اُسے کفر تو جانتا تھا کہیں اس عبارت میں اس کے رَدّیا اُس سے تَبرّی کی طرف بھی اشارہ کیا؟_____کسی کلمہ،کسی حرف سے کراہت وناپسندی کی بُو بھی آتی ہے؟ ہیہات ہیہات !! نہ ہرگز ہرگز کوئی لفظ ایسا لکھا جس سے معلوم ہوتا کہ دوسرے کا قول نقل و حکایت کرتا ہے،بلکہ اس سب کے برعکس اسے لفظ التحقیق کے نیچے داخل کیا۔اور "قولِ وسیط" میں ھٰذا التحقیق کہا جس نے رہا سہا بھرم کھول دیا فانَّا ﷲ وانّا الیہ راجعون(بے شك ہم اﷲ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ت)
آئمہ دین،یہاں تك کہ خود مُنَقّحِ مذہب حضرت امام ربانی ابوعبداﷲ محمد بن حسن شیبانی اﷲ تعالٰی عنہ تصریح فرماتے ہیں کہ:"جو شخص اپنی زبان سے المسیح ابن اﷲ(مسیح اﷲ تعالٰی کا بیٹا ہے۔ت)کہے اور کوئی لفظ ایسا کہ حکایت قول نصارٰی پر دلیل ہو،ذکر نہ کرے،اگرچہ قصدِ حکایت کا دعوٰی کرتا رہے،ہر گز سچا نہ ٹھہرائیں گی اور عورت نکاح سے نکل جانے کا حکم دیں گے"۔
علامہ بدر الدین رشید حنفی رسالہ الفاظِ مُکْفِرہ میں فتاوٰی صغرٰی وغیرہا سے ناقل!
|
وقالت للقاضی سمعت زوجی یقول المسیحُ ابنُ اﷲ فقال انما قلت حکایۃ عمّن یقولہ،فانّہ اقرّ انّہ لم یتکلم الا بھٰذہ الکلمۃ بانتِ امرأتہ [1]۔ |
اگر کسی عورت نے قاضی کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنے شوہر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مسیح اﷲ کا بیٹا ہے اس پر شور نے کہا کہ میں نے یہ کلمات اس شخص کی طرف سے نقل کرتے ہوئے کہے جو اس کا قائل ہے اور شوہر نے اقرار کیا۔کہ اس نے یہی کلمات کہے ہیں تو اس کی عورت بائنہ ہوجائے گی۔ (ت) |
اُسی میں ہے:
|
قال محمد ان شہدالشہود انّھم سمعوہ یقول المسیح ابن اﷲ،و |
امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا اگر گواہ گواہی دیں کہ انہوں نے شوہر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع