30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالجملہ باری تبارك و تعالٰی کو کسی شیئ کی تدبیر و تصرف سے بے تعلق،یا اس کے غیر کو خالق جواہر،خواہ ایجاد باری تعالٰی کا متمم کہنا قطعًا جزمًا کفریاتِ خالصیہ ______ اور یہ سب مسائل اجلی ضروریات دین سی ہیں ____ بلکہ ان میں بھی ممتاز ______ اور اپنے کمال وضوح میں تجشم ایضاح سے غنی و بے نیاز۔
تنبیہ:ہاں عجیب نہیں کہ زید کو سرگرمی و ساوس ان عذر بارد پر لائے کہ ان میں ان امور کا دل سے معتقد نہیں،یہ تو میں نے فلاسفہ کے طور پر لکھ دیا ہے۔
اقول:(میں کہتا ہوں،ت)لاتعدم الخَرقاءُ حیلۃً(کوئی مکار عورت حیلہ سازی سے خالی نہیں ہوتی،ت)______ بین و واضح کہ یہاں کوئی صورت اِکراہ نہ تھی،اور بِلا اکراہ کلمہ کفر بولنا خود کفر،اگرچہ دل میں اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو،اور عامہ علما فرماتے ہیں کہ اس سے نہ صرف مخلوق کے آگے بلکہ عند اﷲ بھی کافر ہوجائے گا کہ اس نے دین کو معاذ اﷲ کھیل بنایا اور اس کی عظمت خیال میں نہ لایا۔امام علامہ فقیہ النفس فخر الدین اوزجندی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ خانیہ میں فرماتے ہیں:
|
رجل کفر بلسانہ طائعاو قلبہ علی الایمان یکون کافرًا،ولا یکون عنداﷲ مؤمنا [1]۔ |
جس شخص نے زبان سے بخوشی کلمہ کفر کہا،حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو وہ کافر ہوجائے گا اور وہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك مومن نہ ہوگا۔(ت) |
حاوی میں ہے:
|
من کفر باللسان وقلبہ،مطمئن بالایمان فہو کافرو لیس بمؤمن عند اﷲ [2]۔ |
جس نے زبان سے کفر بکا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو وہ کافر ہے اور اﷲ تعالٰی کے نزدیك وہ مومن نہیں ہے۔(ت) |
مجمع الانہر وجواہر الاخلاطی میں ہے:وھذا الفظ المجمع(اور یہ لفظ مجمع کے ہیں۔ت):
|
من کفر بلسانہ طائعاوقلبہ مطمئن الایمان فھو کافر ولاینفعہ مافی قلبہ،لانّ الکافر یعرف بما ینطق بہ بالکفر فاذا نطق بالکفر |
جس نے بخوشی زبان سے کفر بکا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو وہ کافر ہے،اور جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس کو نفع نہ دے گا کیونکہ کافر تو منہ سے بولے ہوئے کفر سے پہچانا جاتا ہے جب اس نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع