30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ذاتی کو بہ لفظ حقیقت خاص کرتے ہیں____ ہماری مِلك مِلك مجازی ہے،یعنی بہ عطائے الہٰی،نہ اپنی ذات سے ____نہ یہ کہ حقیقت ونفس الامر میں باطل ہے۔
قال تعا لٰی: "فَہُمْ لَہَا مٰلِکُوۡنَ ﴿۷۱﴾"[1](تو یہ اُن کے مالك ہیں،ت)
قال تعا لٰی: "مَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُکُمْ ؕ"[2](وہ جس کے مالك ہوئے ان کے دائیں ہاتھ،ت)
ولہذا "وَسْـَٔلِ الْقَرْیَۃَ"[3](اور اس بستی سے پوچھ۔ت)
مجاز ہوا کہ علم و سماع و قدرت علی الجواب جو مُصحح استفسار حقیقی ہیں وہاں مسلوب ومعدوم _____اور "سَلْہُمۡ اَیُّہُمۡ بِذٰلِکَ زَعِیۡمٌ ﴿ۚۛ۴۰﴾ "[4] (تم اُن سے پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے۔ت)قطعًا حقیقت کہ ثبوت یقینی____ اگرچہ عطائی ہے۔
ہر عاقل جانتا ہے کہ مدارِ حقیقت ثبوت فی الواقع پر ہے____اور وہ ذاتی و مستفاد دونوں سے عام ____ع
ھٰذا الذی تعرف البطحاء واطأتہ
(یہ وہی ہے جس کے روندنے کو وادی بطجاپہچانتی ہے۔ت)
اور___ ع
العرب تعرف من انکرت والعجم،
(جس کا تو نے انکار کیا اس کو عرب و عجم پہچانتے ہیں۔ت)
میں جو فرقِ استعمال ہے عاقل پر مستور نہیں____ یہیات ! اگر حقیقت منُوط بہ ذاتیت،ہو تو لازم آئے معاذ اﷲ خلقِ اشیاء حقیقۃً جناب باری سے مسلوب بلکہ محال ہو،اور ان کا اثبات فقط مجازی خیال ____ کہ جب حقیقتہٍ اِفاضئہ وجود نہ ہوا تو واقع میں کچھ نہ بنا____ "اَعْطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلْقَہٗ"[5] (اس نے ہرچیز کو اس کے لائق صورت دی۔ت)کیونکر صادق آئے وقس علٰی ھذا اشنائع اُخرٰی(اسی پردوسری برائیوں کو قیاس کرلو۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع