30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور لفظ "مجازی" جس طرح "حقیقت " کے مقابل بولتے ہیں،یونہی بہ مقابلہ ذاتی اطلاق،
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) الحیلولۃ ھی الموجبۃ لہ___ والمعیۃ لاتفید العلیۃ___ بل ھٰذا الذی ذکرنا ھوالمستفاد من ظواھر الاحادیث ___ وقدرأینا کذبھم فی کسوفٍ وقع علٰی عہد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لعشرٍ خلونَ من شوال___ مع ان قاعدتھم تقضی بان لایقع الاآخر الشہر،اذ المقارنۃ لاتکون الا اذ ذاک۔فلما ظھرلنا انتقاض الدوران فی الکسوف عسی ان یظھر ایضًا فی الخسوف __ علٰی ان فی الباب احتمالات اُخر لایتکا فیہا الدلیل___ وبالجملۃ مالہ یخبر عنہ نراہ مضطر با ھٰکذاالٰی یوم القیمۃ فاستفدہ فانہ مھم__نعم افاد الامام عبدالوہاب الشعرانی فی میزان الشریعۃ الکبرٰی اجماع اھل الکشف علٰی ان انور القمر مستفاد من انور الشمس [1] فمن ھذا الوجہ نحن نقول بہ واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (ای من المصنف قدس سرہ) |
زمین حائل ہو جو کہ چاند گرہن کا موجب ہے اور معیت مفید علیت نہیں،بلکہ یہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے یہی ظاہر حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے۔اور بے شك فلاسفہ کا جھوٹ ہم نے دیکھ لیا اس سورج گرہن میں جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دس شوال کو واقع ہوا،باوجود یہ کہ ان کے قاعدہ کا تقاضا یہ ہےکہ سورج گرہن صرف مہینہ کے آخر میں واقع ہوسکتا ہےکیونکہ مقارنت اسی وقت ہوتی ہے جب ہمارےلیے سورج گرہن میں دوران کا ٹوٹ جانا ظاہر ہوگیا ہے تو چاند گرہن میں بھی ظاہر ہوجائے گا۔علاوہ ازیں اس باب میں اوربھی کئی احتمال ہیں جن میں کوئی قابل اعتماد دلیل نہیں۔خلاصہ یہ کہ جس کے بارے میں خبرنہیں دی گئی ہم اسے قیامت تك یوں ہی مضطرب دیکھیں گے۔اس سے فائدہ حاصل کر کیونکہ یہ بہت اہم ہے۔ہاں۔امام عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمۃ نے میزان الشریعۃ الکبرٰی میں افادہ فرمایا کہ نور قمر کے نور شمس سے مستفاد ہونے پر اہل کشف کا اجماع ہے۔اسی وجہ سے ہم اس کے قائل ہیں۔اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے ۱۲ منہ(یعنی مصنف علیہ الرحمہ کی طرف سے)(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع