30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو وہ فورًا ہوجاتی ہے ت)قضایائے حقہ صادقہ ہیں۔اور حقائق الاشیاءِ ثابتۃ [1](اشیاء کی حقیقتیں ثابت ہیں۔ت)
پہلا عقیدہ خود اپنی ہی نظیر میں دیکھے کہ نور قمر تاب آفتاب سے مستفاد ہونا "جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوۡرًا" عــــــہ [2](اس نے سورج کو جگمگاتا بنایا اور چاند چمکتا۔ت)کے مخالف نہ ٹھہرا۔
عــــــہ:آیہ کریمہ نص واضح ہےکہ قمر مستنیر ہو کر اِنارہ عالم کرتا ہے۔
|
ھوالراجع من جھۃ العقل ایضا والیہ جنح المحققون منھم الامام الرازی۔ |
عقل کے اعتبار سے بھی وہی راجح ہے اور محققین کا میلان بھی اسی کی طرف ہے جن میں امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ بھی شامل ہیں۔(ت) |
نہ یہ کہ استنارہ صرف ضوء شمس کا تادیہ کرے کما ظنہ،بعض الفلاسفۃ(جیسا کہ بعض فلاسفہ نے اس کا گمان کیا ہے۔ت)
رہا یہ کہ وہ خود نورانی نہیں بلکہ پر تو مہر سے روشن ہوتا ہے۔اقول:اس کی نہ ہم نفی کریں لعدم ورود السمع بتکذیبہ(اس کی تکذیب پر دلیل نقلی وارد نہ ہونے کی وجہ سے۔ت)نہ اُس پر جزم ضرور ہے لعدم قیام البرھان علٰی تصویبہ اس کی درستگی پر برہان قائم نہ ہونے کی وجہ سے۔ت)
|
والدوران لیس فی شیئ من البرھان وان زعمواانہ بدیہی ثابت بالحدس،کیف ولا قاطع بابطال قول ابن الھیثم فی الاھلّۃ،وما ذکروہ من حدیث الخسوف فیجوز ان یکون ذٰلك لان القادر تعالٰی ینزع منہ النور متی شاء من دون ان تکون |
اور دوران برہان میں سے کچھ نہیں،اگرچہ ان کا گمان یہ ہے کہ یہ بدیہی ہے حدس سے ثابت ہے،یہ کیسے ہوگا،حالانکہ چاندوں کے بارے میں ابن ہثیم کے قول کے ابطال کا کوئی قاطع نہیں ہے۔اور چاند گرہن کے بارے میں جو حدیث انہوں نے ذکر کی تو ایسا ہونا ممکن ہے کیونکہ اﷲ تعالی اس پر قادر ہے کہ جب چاہے چاند کا نور سلب فرمادے بغیر اس کے کہ سورج اور چاند کے درمیان (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع