30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور سُورہ لقمان میں افلاك و عناصر و جمادات و حیوانات و آثارِ علویہ و نباتات سب کی طرف اِجمالی ارشارہ کرکے ارشاد فرماتا ہے تقدس اسمہ:
|
"ہٰذَا خَلْقُ اللہِ فَاَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿٪۱۱﴾[1] |
یہ سب تو خدا کا بنایا ہوا ہے وہ مجھے دکھاؤ کہ اس کے سوا اوروں نے کیا بنایا،بلکہ ناانصاف لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔ |
صدق اﷲ سبحٰنہ______ یہاں تك کہ اس امر کا باری عزاسمہ سے خاص ہونا مدارك مشرکین عرب میں بھی مرتسم تھا۔قال جل ذکرہ:
|
"وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمۡ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللہُ ؕ"[2] |
اور بے شك اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمان و زمین کس نے بنائے،ضرور کہیں گے اﷲ نے۔ |
یہ سخافتِ جلیہ وخرافت علیہ جس نے انہیں امیر الحیر بنایا عُقلائے فلسفہ کا حصہ تھی۔"قٰتَلَہُمُ اللہُ ۚ اَنّٰی یُؤْفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾"[3](اﷲ تعالٰی انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)
سلَّمنا کہ زید کا یہ مطلب نہیں،نہ وہ عقول عشرہ کو خالق بالذات و موجد مسقتل مانے بلکہ انہیں صرف شرط و واسطہ جانتا،اور باری تعالٰی کی تاثیر و فاعلیت کا متمم مانتا ہے تو گویا "مثلًا "اسی تنویع کی طرف مشیر،کہ علاقہ خلی ہو یا وساطت فی الخلق،اور اس قدر سے اسے انکار کی گنجائش نہیں،کہ دوسرے رسالہ میں خود اس کا اقرار کیا اور اسے مذہب محقق و مشرب حق قرار دیا____ تو یہ خود کفر و واضح وارتداد فاضح ہونے میں کیا کم ہے۔کہ اس میں صراحۃً اس قادر ذوالجلال،غنی متعال تبارك و تعالٰی کو خلق و ایجاد میں غیر کافی،اور دوسری چیز کے توسط وآلیت کا محتاج اور صاف صاف اس قدیر مجید عزوجل کو فاعلیت میں ناقص،اور عقول عشرہ کو اس کا کامل و تام کرنے والا مانا ____ وَاَیِّ کُفْرٍاَ فحَشُ مِنْ ھٰذا؟(اور کون سا کفر اس سے بدتر ہے؟(ت)____ یہ ایك کفر نہیں بلکہ معدنِ کفر ہے۔باری کا عجز ایك کفر ____ دوسرےکی طرف نیاز دو کفر ____ آپ ناقص ہونا تین کفر ____ غیر سے تکمیل پانا چار کفر____ خالق مستقل نہ ہونا پانچ کفر۔ ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع