دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 27 | فتاوی رضویہ جلد ۲۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۷

جیسا کہ اس متفلسف نے ادعا کیا تو وائے جہالت ! نفس ہی کو نہ پُوجے ! جو ایسی قاہر قدرت رکھتا،اور بہ طورِ خود اپنے بدن کی یہ جلیل تدبیر کیا کرتا ہے—— "وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٪"[1] (اور ہمارے رب رحمن ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو۔ت)

زیدکے اس قول میں ایك کفر جلی تو یہ ہے —— ثُمَّ اَقُوْلُ(میں پھر کہتا ہوں۔ت)ناظر عارف،مناظر منصف آگاہ و واقف کو سوق عبارت سے خالقیتِ عقول متبادر عــــــہ۱ و منکشف— اور قائلانِ عقول کا یہ مسلك ہونا اس کا اقوٰی مشید و مرصف —اگرچہ پائے مکابرلنگ،نہ مجال مناقشہ تنگ — اور اگر نہ سہی،تاہم عــــــہ۲ تعادل کفتین میں اشتباہ نہیں— اور  نہ بھی مانو تو ایہام شدید سے بچنے کی راہ نہیں— اور ایسی جگہ مجرد ایہام بحکم شرع ممنوع و حرام ہے۔کما سیاتی۔

عــــــہ۱:اقول: فقیر ایك مثالِ واضح ذکر کرتا ہے کہ منصف کو کافی ہو اور مُتعسف کو دفتر بس نہیں—— مثلًا اگر کہا جائے کہ قرآن مجید سے علاقہ رکھنے میں لوگ مختلف رنگ پر ہیں—— کوئی بہ قوت اجتہاد اس سے استنباط احکام کرتا ہے،کوئی بہ حزم و احتیاط اس کی تفسیر لکھتا ہے،کوئی حافظ ہے کوئی قاری،کوئی سامع کوئی تالی،ایك معلم دوسرا متعلم —— یہ سب لوگ اس سے سچا علاقہ رکھتے ہیں—— اور بعض وہ جن کے لیے ان علاقوں میں سے کچھ نہیں،اور انہیں قرآن کریم سے تعلق نہیں مگر مثلًا علاقہ عداوت،تکذیب جیسے مصنف منطق الجدید ومجوس و ہنود و نصارٰی و یہود۔

ایمان سے کہنا اس کلام سے صاف صاف یہی سمجھا جائے گا یا نہیں کہ قائل نے مصنف منطق الجدید کو بھی دشمن و مکذب قرآن بتایا—— اگر چہ لفظ "مثلًا " میں اتنی گنجائش ہے کہ یہ علاقہ مذکورین مابعد کے لیے سمجھیں اور منصنف مسطور کے لیے اور کچھ تصور کرلیں۔مثلًا فال کھولنا یا تجارت کرنا—— تقصیر معاف ! اس نہج خاص پر وضع مثال اظہارِ حق کے لیے ہے کہ آدمی اپنے مقابلہ میں خواہی نہ خواہی ظاہر متبادر پر جاتا ہے،اور وہاں دوسرے کی طرف سے ابدائے عذر کو احتمالاتِ بعید تلاش نہیں کرتا—— اب اس مثال کو اپنی عبارت سے ملا کر دیکھ لیجئے کہ بعینہ اُسی رنگ کی ہے یا نہیں؟—— پھر جب یہاں یہ متبادر تو وہاں سے ادعائے خالقیت عقول کیونکر ظاہر نہ ہوگا؟ واﷲ تعالٰی الھادی ۱۲ عبدہ سلطان احمد خان غفرلہ۔

عــــــہ۲:یہ سب تنزُّلات بہ لحاظِ مجادلین ہیں ورنہ اصل کا رَد ہی تبادرِ خالقیت ہے کما بینا ۱۲ س عفی عنہ۔


 

 



[1] القرآن الکریم ۲۱/ ۱۱۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن