30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یصلح علّۃ بمعنی الواسطۃ والشرط والمتمم والالۃ لا مفیدۃ لا وجود عــــــہ حقیقۃ وقداستوفی ھذا التحقیق فی مقامہ اھ ملخصا ص ۲۔ قول دوم:المسئلۃ القائلۃ بان کلَّ حادثٍ مسبوق بالعدم مخصوصۃ بالحادث الزمانی،والمادۃ حادث ذاتی ا ھ مختصرا ص ۲۵۵۔ قول سوم:الصورۃ الجسمیۃ والنوعیۃ ایضامن من الحوادث الذاتیۃ ص ۲۔ قول چہارم:السرمد یات والثابتات الدھریۃ کالعقول والنفوس القدیمۃ اھ ملتقطاص ۱۵۔ قول پنجم:کلی طبعی کے موجود فی الخارج ہونے پر لکھا: اِعلم ان الباقر استدل علٰی ھذا بان طبیعۃ الحیوان المرسل لیس متعلق الذات بمادۃ ومدۃ، فلایکون مرھونہ الوجود بالامکان الاستعدادی، فالا مکان الذاتی ھناك ملاك فیضان الوجود،فاذا کان ھذا الحیوان المتعلق بالمادۃ فائض الوجود کان المرسل احق بالفیضان لاستحقاق الامکان الذاتی۔و حاصلہ ان الحیوان المطلق مستحق |
ممکن کا ممکن کے لیے علّت ہونا ظاہری و مجازی ہے،تو یہ ضعیف وجود اس معنی میں علت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ واسطہ،شرط،متمم اور آلہ ہے نہ کہ حقیقتًا مفید وجود ہے۔اس کی پوری تحقیق اپنے مقام پر کردی گئی ہے اھ ملخصاص ۲ (ت)۔ یہ جو کہاجاتا ہےکہ ہر حادث مسبوق بالعدم ہوتا ہے یہ مسئلہ حادت زمانی کے ساتھ مختص ہے اور مادہ حادث ذاتی ہے اھ (مختصرصفحہ ۲۵۵)(ت)۔ صورتِ جسمیہ اور صورتِ نوعیہ بھی حوادث ِ ذاتیہ میں سے ہیں۔ص ۲(ت) سرمد یات(جن کی نہ ابتداء ہو نہ انتہاء)اور ثابتات دہریہ جیسے عقول اور نفوس قدیمہ اھ(التقاط ص ۱۵)۔ تو جان لے کہ میر باقر نے اس پر یوں استدلال کیا کہ بے شك حیوان مطلق کی طبیعت بالذات کسی مادہ و مدت سے متعلق نہیں ہوتی تو وہ امکانِ استعدادی کے ساتھ وجود کی مرہون نہ ہوگی چنانچہ امکان ذاتی یہاں پر فیضان وجود کی بنیاد ہوگا،پس جب یہ حیوان جو کہ مادہ سے متعلق ہے وجود کا فیضان کرنے والا ہے تو حیوان مطلق امکان ذاتی کے استحقاق کی وجہ سے فیضان وجود کا زیادہ حقدار ہوگا۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حیوان مطلق امکان ذاتی کے سبب سے |
عــــــہ:کذا فی المخطوطۃ المنقولۃ،ولعل فی الاصل لا مفیدۃ وجودٍحقیقۃً ۱۲ محمد احمد۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع