30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
السابعۃ مرتبۃ الماھیات المجردۃ بالکلیۃ،لاتعلق لھا بالمادۃ تعلق التقویم اوالحلول اوالتدبیر و التصرف،ولا تعلق لھا الا تعلق الخلق والا یجاد مثلًا وھی حقائق المفارقات القدسیۃ کالمعقب القدسی و سائر المعقول العشرۃ والحقیقۃ الواجبۃ اھ ملتقطا من ص ۲۵۰ الٰی ۲۵۱۔ |
مرتبہ ان ماہیتوں کا ہے جو کُلّی طور پر مجرد ہیں،ان کا مادہ کے ساتھ تقویم حلول باندر بیر وتصرف کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی تعلقِ خلق و ایجاد کے سوا ان کا کوئی اور تعلق ہے اور وہ حقائق مفارقاتِ قدسیہ ہیں جیسے معقب قدسی،عقول عشرہ اور حقیقتِ واجبہ اھ ملتقطا ص ۲۵۰ تا ۲۵۱۔ |
دوسرے رسالہ القول الوسیط میں اس مسئلہ کی تحقیق یوں لکھی ہے۔
|
العلۃ الجاعلۃ ھل یجب کونھا واجبۃ الوجود اویمکن کونھا ممکنۃ؟ المشہور الثانی فیما بین الحکماء لکن المحققین منھم نصوا انّ العلمۃ المؤثرۃ بالذات ھو الباری،والعقول کا لوسائط والشروط لتعلق التاثیر الواجبی بغیر ھا کیف والماھیۃ الامکانیۃ انما وجودھا بالاستعارۃ عن الواجب،فھو المعطی بالذات الوجودات، فان اعطاء المستعیرلیس اعطاء حقیقۃ وانما ھو اعطاء من تلقاء المالک،کما ان استناد اضاء العلم الی القمر لیس حقیقۃ بل بحسب الظاھر،وانما ھو مستند الی الشمس،والقمر واسطۃ محضۃ الانتقال ضوءھا الی العالم،فالمنیر بالذات ھی لاھو،فعلّیۃ الممکن للممکن ظاھریۃ مجازیۃ،فھذا الوجود الضعیف |
کیاعلتِ جاعلہ کا واجب الوجود ہونا واجب ہے یا اس کا ممکن ہونا جائز ہے؟ مشہور حکماء میں قول ثانی ہے لیکن ان میں سے محقق نے صراحت کی ہے کہ علت موثرہ بالذات فقط باری تعالٰی ہے اور عقول تاثیر واجبی کے ان کے غیر کے ساتھ متعلق ہونے کے لیے واسطوں اور شرطوں کی طرح ہیں کیوں نہ ہو حالانکہ ماہیت ممکنہ کا وجود تو واجب سے مستعار ہے چنانچہ وجود وں کا بالذات معطی واجب الوجود ہی ہے کیونکہ مستعیر کا کسی کو عطا کرنا درحقیقت اس کا عطا کرنا نہیں بلکہ وہ مالك کی طرف سے عطا کرنا ہے جیسا کہ عالم کو روشن کرنے کی نسبت چاند کی طرف کرنا حقیقت کے اعتبار سے نہیں بلکہ ظاہر کے اعتبار سے ہے درحقیقت اضاست عالم سورج کی طرف منسوب ہے چاند تو اس کی روشنی کو عالم کی طرف منتقل کرنے کا محض واسطہ ہے۔لہذا بالذات روشن کرنے والا سورج ہے نہ کہ چاند۔چنانچہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع