30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاوٰی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائے،نیز اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی گرانقدر تحقیق انیق کو بھی ہم نے پیش نظر رکھا اور اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کی۔عام طور پر فقہ وفتاوٰی کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظروالاباحۃ کاعنوان ذکر کیاجاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیۃ پرہواتھا لہٰذا اکیسویں جلد سے مسائل حظرواباحۃ کی اشاعت کاآغاز کیاگیا۔کتاب الحظروالاباحۃ(جوچارجلدوں ۲۱،۲۲،۲۳،۲۴ پرمشتمل ہے)کی تکمیل کے بعد ابواب مداینات،اشربہ،رہن،قسم اور وصایا پرمشتمل پچیسویں جلد بھی منصّہ شہود پرآچکی ہے۔اب ابواب فقہیہ میں سے صرف کتاب الفرائض باقی تھی جس کو پیش نظرجلد میں شامل کردیاگیاہے۔باقی رہے مسائل کلامیہ ودیگر متفرق عنوانات پرمشتمل مباحث وفتاوائے اعلٰیحضرت جوفتاوٰی رضویہ قدیم کی جلد نہم ودوازدہم میں غیرمبوّب وغیرمترتّب طورپرمندرج ہیں،ان کی ترتیب وتبویب اگرچہ آسان کام نہ تھا مگررب العالمین عزوجل کی توفیق،رحمۃ العالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین کی نظرعنایت،اعلٰیحضرت اور مفتی اعظم رحمۃ اﷲ علیہما کے روحانی تصرف وکرامت سے راقم نے یہ گھاٹی بھی عبورکرلی اور کتاب الحظروالاباحۃ کی طرح ان بکھرے ہوئے موتیوں کوابواب کی لڑی میں پروکرمرتبط ومنضبط کردیاہے وﷲ الحمد۔
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امورکوبطورخاص ملحوظ رکھا:
(ا)ان تمام مسائل کلامیہ ومتفرقہ کو کتاب الشتی کامرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب پرتقسیم کردیاہے۔
(ب)تبویب میں سوال واستفتاء کااعتبارکیاگیاہے۔
(ج)ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہرمسئلہ کومستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیاہے۔
(د)مذکورہ بالادونوں جلدوں(نہم ودوازدہم قدیم)میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(ھ)رسائل کی ابتداء وانتہاء کوممتاز کیاہے۔
(و)کتاب الشتی کے ابواب سے متعلق اعلٰیحضرت کے بعض رسائل جوفتاوٰی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کوبھی موزوں ومناسب جگہ پر شامل کردیاہے۔
(ز)تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہٰذامسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتّب کرناپڑی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع