دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 27 | فتاوی رضویہ جلد ۲۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۷

سے ہے تو نقش کہ قلم سے بنتے ہیں جان بناتی ہے مگر احمق چیونٹیاں اپنی اپنی رسائی کے موافق ان کا فاعل قلم انگلیوں بازو کو سمجھیں،یوں ہی ارادۃ اﷲ سے کوہ قاف کی تحریك ہے اس کی تحریك سے بخارات کا نکلنا زمین کا ہلنا ہے۔یہ احمق چیونٹیاں جنہیں فلسفی یا طبیعی والے کہئے صدمہ بخارات کو سبصبِ زلزلہ سمجھ لیجئے)بلکہ نظر کیجئے تو یہ ان چیونٹیوں سے زیادہ کودن و بد عقل ہیں۔انہوں نے سبب ظاہر ی کو سبب سمجھا۔انہوں نے سبب کے دو مسببوں سے ایك کو دوسرے کا سبب ٹھہرایا۔

وباﷲ العصمۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(حفاظت اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے اور اﷲ سبحانہ و تعالٰی خوب جانتا ہے۔ت)

مسئلہ ۲۶:                                از سورنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری                     ۱۲ رجب ۱۳۲۱ھ

بادل،ہوا کی کیا بنیاد؟ کس جگہ سے شروع ہوتے ہیں؟ اور تمام جگہ یکساں ہوا چلتی ہے،زمین میں مقام ہے یا آسمان پر؟

الجواب:

ہوا ربّ العزت تبارك وتعالٰی کی ایك پُرانی مخلوق ہے کہ پانی سے بنائی گئی اور اس کے لیے علم الہٰی میں ایك خزانہ ہے جس پر دروازہ لگا ہوا ہے۔اور وہ بند ہے اور فرشتہ اس پر موکل ہے۔جتنی ہو ا اس میں سے رب العزت بھیجنا چاہتا ہے فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ اس میں سے بمقدار حکم ایك بہت خفیف حصہ روانہ کرتا ہے۔جب قومِ عاد پر اﷲ تعالٰی نے ہوا کا طوفان بھیجنا چاہا جو سات راتیں اور آٹھ دن متواتر ان پر رہا،ان سب کو ہلاك کردیا۔اس وقت اس فرشتہ کو حکم ہوا تھا کہ عاد پر ہوا بھیج۔اس نے عرض کی اتنا سوراخ کھولوں جتنا بیل کا نتھنا۔فرمایا تو چاہتا ہے کہ ساری زمین کو الٹ دے بلکہ چھلے برابر کھول۔اور یوں ہوا ہروقت زمین اور آسمانوں سب میں بھری ہے اور انسان اور اکثر حیوانات کی اس پر زندگی ہے۔

اور بادل بخارات سے بنتے ہیں،جب رطوبت میں حرارت عمل کرتی ہے بھاپ پیدا ہوتی ہے،حق سبحانہ،ہوا بھیجتا ہے کہ وہ اس کو جمع کرتی ہے پھر تہہ بہ تہہ اس کے بادل بناتی ہے پھر جہاں حکم ہوتا ہے اسے لے جاتی ہے اور بحکم الہٰی حرارت کے عمل سے وہ پگھل کر پانی ہو کر گرتی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۷:                               مسئولہ محمد اسمعیل صاحب محمود آبادی امام مسجد چھاؤنی بریلی        ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ

کیا یہ بات معتبر حدیث سے ثابت ہے کہ عورتوں کو نسبت مرد کے نو حصہ شہوت زیادہ دی گئی ہے؟

اگر ہے تو شریعت مطہرہ میں چار عورتوں تك نکاح جائز ہے ماسوائے اس کے لونڈیاں الگ۔تو ایك خاوند باوجود ہونے کے ایك حصہ شہوت کے کیونکر چار عورتوں اور لونڈیوں کی خواہش پوری کرسکے گا؟ یہی اس میں کیا حکمت ہے؟ براہ کرم بتفصیل جواب عنایت ہو تاکہ دشمنانِ اسلام کو اس شہوت کے بارے میں جواب


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن