30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۱) ایں بخارات زمیں نہ بود بداں زامرحق است وازاں کوہ گراں[1]
(۱۲) مور کے بر کاغذے دیداوقلم گفت بامور دگر ایں راز ھم
(۱۳) کہ عجائب نقشہاآں کلك کرد ہمچو ریحان وچوسوسن زارو ورد
(۱۴) گفت آں موراصبع ست آں پیشہ ور دیں قلم در فعل فرع ست واثر
(۱۵) گفت آں مورسوم کزبازوست کا صبع لاغرنہ زورش نقش بست
(۱۶) ہمچنیں میرفت بالاتا بکے مہتر موراں فطن بوداند کے
(۱۷) گفت گز صورت مبینید ایں ہنر کہ بخواب ومرگ گرد د بے خبر
(۱۸) صورت آمد چوں لباس و چوں عصا جز بعقل وجاں نجنبد نقشہا[2]
(۱)حضرت ذوالقرنین کوہ قاف کی طرف تشریف لے گئے،انہوں نے ایك پہاڑ دیکھا جو زمرد سے زیادہ صاف تھا۔
(۲)اس احاطہ کرنے والے نے تمام جہاں کے گرد حلقہ کیا ہوا تھا۔اس وسیع مخلوق کو دیکھ کر آپ حیران رہ گئے۔
(۳)آپ نے فرمایا تو پہاڑ ہے دوسرے کیا ہیں کہ تیری بڑائی کے سامنے کھڑے ہوں۔
(۴)اس نے کہا کہ وہ دوسرے پہاڑ میری رگیں ہیں جو حسن اور قیمت میں میری مثل نہیں ہیں۔
(۵)ہر شہر میں میری رگ چھپی ہوئی ہے۔دنیا کے کنارے میری رگوں پر بندھے ہوئے ہیں۔
(۶)جب اﷲ تعالٰی کسی شہر میں زلزلہ لانا چاہتا ہے تو مجھے حکم دیتا ہے کہ رگ کو ہلادے۔
(۷)میں زور سے اس رگ کو ہلا دیتا ہوں جس رگ سے وہ شہر ملا ہوا ہوتا ہے۔
(۸)جب وہ فرماتا ہے کہ بس،تو میری رگ ساکن ہوجاتی ہے،مییں بظاہر ساکن ہوں مگر حقیقت میں متحرك ہوں۔
(۹)جیسے کہ مرہم ساکن اور بہت کام کرنے والی ہے۔جیسے عقل ساکن ہے اور اس کی وجہ سے بات متحرك ہے۔
(۱۰)جس کی عقل اس کو نہیں سمجھتی اس کے نزدیك زلزلہ زمین کے بخارات کی وجہ سے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع