30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
امرسلطانی کے بعد مباح واجب ہوجاتاہے۔ |
۳۸۲ |
شریعت میں حتی الامکان نظراصلاح معاملات پر ہوتی ہے،نہ افساد پر۔ |
۵۶۶ |
|
اعطائے قاعدہ اور بیان واقعہ میں فرق ہے۔ |
۳۹۳ |
عقد میں جو چیزلازم ہو اگرعاقدین اس کو اپنے ذہن میں لازم نہ سمجھیں،یا اس پر عمل نہ کریں تو وہ عقد مرتفع نہیں ہوتا۔ |
۵۶۷ |
|
مطلقًا اختلاف فتوٰی مستلزم تعادل اقوال وفتوٰی نہیں۔ |
۴۱۱ |
شرط فاسد کے مفسد اجارہ ہونے پر چند بحثیں۔ |
۵۷۶ |
|
ترجیح اولٰی،متون نے اس پر جزم کیا،اور متون فتاوٰی اور شروح پرمقدم ہیں۔ |
۴۱۴ |
اس عرف کا حضور کے زمانہ میں ہونا ضروری نہیں۔ |
۵۸۰ |
|
حکم مباشر کی طرف منسوب ہوتاہے مسبب کی طرف نہیں۔ |
۴۴۰ |
منحۃ الخالق سے اس اعتراض کا جواب کہ کیا عرف حدیث رسول پرقاضی ہوسکتاہے۔ |
۵۸۱ |
|
مطلق کی نفی اور مطلق نفی میں فرق ہے۔ |
۴۶۷ |
کیا وہ عرف سارے جہان کے مسلمانوں کا ہوناضروری ہے یانہیں۔ |
۵۹۲ |
|
صریح دلالت پر فوقیت رکھتاہے۔ |
۴۷۱ |
جن مسائل میں علماء نے عرف کا لحاظ کیا انہیں میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ پورے عالم اسلام کا عرف نہ تھا۔ |
۵۹۳ |
|
جوعرفاً معہود ہو وہ قولاً مشروط ہی کی طرح ہے۔ |
۴۸۷ |
تمام کیا جملہ بلادالمسلمین کے اکثر کاپتہ چلانا بھی محال کی طرح ہے۔ |
۵۹۳ |
|
جوناجائز ہے مشروط ہو یا معہود ہرطرح ناجائزہے۔ |
۴۹۵ |
واقعی مردم شماری عادۃً محال ہونے کی تشریح۔ |
۵۹۴ |
|
صریح دلالت پرفوقیت رکھتاہے۔ |
۴۹۵ |
صرف علمائے اسلام کے اجماع کی بھی دوسری صدی کے بعد کوئی راہ نہ رہی۔ |
۵۹۴ |
|
اصل کلی،بیع اعیان کا عقد ہے،اور اجارہ منافع کاعقد ہے۔ |
۵۴۲ |
اس امر کا کوئی ثبوت نہیں کہ علماء نے کسی مسئلہ میں عرف کا لحاظ کرنے کے لئے پورے عالم اسلام کے عرف کی تحقیق کی ہو۔ |
۵۹۴ |
|
مقیس اور مقیس علیہ میں فرق کا بیان۔ |
۵۶۴ |
اس امر کی مزید وضاحت کہ عرف سے مراد ہرعلاقہ کے اکثر اہل اسلام کا عرف ہے۔ |
۵۹۶ |
|
اعتبار معانی کا ہے،تو جومعہود ہے وہی مذکورہے۔ |
۵۶۵ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع