30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ورثہ کے درمیان تقسیم ترکہ پر صلح کی چندصورتوں کے حکم کا بیان۔ |
۱۲۲ |
مہر میں شوہر کے علاوہ ورثاء کا حصہ نصف یا تین ربع ہے۔ |
۲۸۵ |
|
اگرورثہ میں نابالغ ہوں تو اس طرح کی صلح جس سے ان کے حصہ شرعی پراثرپڑے ناجائزہے۔ |
۱۲۵ |
مال مقطوع میں وارثوں کا کوئی حق نہیں رہتا۔ |
۲۹۷ |
|
ہبہ صحیح بھی بے قبضہ کامل تمام نہیں ہوتا۔ اور بعد موت واہب اس میں وراثت جاری ہوگی۔ |
۱۹۱ |
کوئی وارث کسی وارث کو اپنے اختیار سے محروم نہیں کرسکتا۔ |
۳۵۱ |
|
ایسی زمین جو زید نے نابالغ لڑکوں کے نام خریدی اس میں وراثت جاری نہ ہوگی،ایسے ہی اس زمین میں بھی جونابالغ نے بالغ ہوکر اپنے لڑکوں کے نام خریدی۔ |
۱۹۶ |
بعد موت لڑکی کا نصف اور لڑکے کا پورا،لیکن زندگی میں دونوں کوبرابر دینے کاحکم۔ |
۳۵۶ |
|
زید نے اپنے لڑکے اور بہو کو مرض الموت میں مکان اور دکان ہبہ کیا،اور لڑکا اپنی عورت کے حق میں راضی نہ تھا،اس میں ہبہ کا حکم جاری ہوگایاترکہ کا"سوال" |
۲۱۲ |
کیافاسق وفاجر لڑکے کو محروم الارث کیاجاسکتاہے۔ |
۳۵۸ |
|
اگرشیئ موہوبہ قابل تقسیم تھی،اور زید نے تقسیم کرکے ہرایک کو قبضہ نہ کرایا توہبہ باطل،اور بعد موت کل لڑکے کا،اور لڑکے کی موت پر تقدیم ماتقدم علی الارث کے بعد ربع زوجہ کا،بقیہ بھانجے کا کہ وہ اکیلا وارث ہے۔ |
۲۱۲ |
عورت کو جائداد مہر کے عوض میں دے دی اس کی موت کے بعد اولاد ہونے کی صورت میں شوہر چہارم کا وارث ہوگا۔ |
۳۸۹ |
|
دکان ناقابل تقسیم ہو اور زید نے اپنی زندگی میں زوجہ پسر کو اس پر قبضہ دلادیا ہو اور نصف دکان ترکہ زید کا ثلث ہو،یا اس سے کم،تو ہبہ صحیح ورنہ باطل،اور کل میں میراث جاری ہوگی۔ |
۲۱۳ |
ماں کے ترکہ میں ایک لڑکے کی موجودگی میں لڑکی کا حصہ ایک ثلث ہے۔ |
۳۹۰ |
|
پوتوں کا وراثۃً کوئی حق نہیں۔ |
۲۲۰ |
جورقم نابالغ لڑکے کے نام جمع کی وہ اس کی ہوگئی،اور جو رقمیں بالغ کے نام بے قبضہ جمع کیں یا مشترکاً بالغ نابالغ یادونوں نابالغ یادونوں بالغ کے نام جمع کیں سب زید کا ترکہ ہے۔ |
۳۹۴ |
|
وارث اپنے مال سے اگر مورث کی تجہیز وتکفین کرے تو وہ تبرع نہیں قرار دیاجائے گا،وہ ترکہ سے اتنا وصول کرسکتاہے۔ |
۲۶۳ |
مصنف کاخانیہ کی عبارت سے ایک فقہی استنباط کہ لاوارث مال کا بیت المال وارث نہیں بلکہ وہ فیئ مسلمین ہے۔ |
۶۶۹ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع