30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کچھ نفع حاصل کیاہو تو وہ اس پر حرام ہے،یا تو انھیں اہل چندہ کو واپس دے جن کے روپے سے نفع حاصل کیاہے۔او ریہی بہترہے،ورنہ جتنا مال نفع لیا ہے فقراء پر تصدق کرے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۳: از کلکتہ شہر ۲۵ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کتب فروش نے میرے ملك میں آکے بطور نذرانہ کے ایك جلد کلام الله پیش کیا،اور چند کتب اور بھی،عرصہ کے بعد معلوم ہوا کہ جس نے نذرانہ دیاہے وہ ایك دوسرے شخص کی دکان پر ملازم ہ۔اور ان کتابوں کا وہ مالك نہیں ہے۔بغیر حکم اپنے مالك کے وہ کتابیں دی ہیں،اس صورت کوہم کو کیا لازم ہے۔کتابوں کو اس شخص کو واپس کردوں یا مالك کتاب کو دے دوں،مگر اس صورت میں رسوائی کا خیال ہے۔اور ممکن ہے کہ اپنی تنخواہ میں حساب کرلیاہوں۔مگر مجھے کیا حکم شرعا ہے؟
الجواب:
وہ کتابیں اپنے پا س نہ رکھی جائیں کیف وقیل۔نہ مالك دکان کودی جائیں کہ کتب فروش کے غصب یاسرقہ پر یقین نہ ہوا،اور مسلمان کا حال حتی الامکان صلاح پر حمل کرنا واجب،بلکہ اسی کتب فروش کو واپس کردی جائیں کہ اگر واقع میں اس کی تھیں فبہا،ورنہ اسے دینے سے بری الذمہ ہوگیا،درمختارمیں ہے:
|
ردغاصب الغاصب المغصوب علی الغاصب الاول یبرأ عن ضمانہ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
غاصب سے غصب کرنے والے نے مغصوب کو پہلے غاصب پر واپس کردیا تو اس سے ضمان ساقط ہوجائیگا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۹۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض موسم میں زید کا مکان قیام گاہ مرد مان ہر شہر ودیار ہوتاہے۔دور دور سے لوگ آتے اور اس کے مکان کی کوٹھری میں اقامت کرتے ہیں،جوشخص جس میں ٹھہرتاہے اسے زید وہ مکان سپرد کر دیتاہے۔کہ اس میں رہے اور اپنا مال واسباب رکھے اور اس کی حفاظت کرے،انھیں لوگوں میں عمرو نے بھی ایك مسکن میں قیام کیا اور حسب دستور وہ مسکن زید نے اسے سپرد کردیا،اوربنظر خیر خواہ عمرو کو اگاہ کردیا کہ اس موسم میں لکھو کھاآدمی آتے ہیں،اپنے مال کی خوب نگرانی کرو،عمرو باوجود اس اطلاع کے ایك دن اس مسکن کو تنہا بے قفل چھوڑ کر باہر گیا،جب آیا ا س کا مال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع