30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور وہ روپے جاتے رہے۔اور بکر کو تکاسل اس قدر نہ کرتا تو یہ روپے ضائع نہ ہوتے۔لہذا صورت مذکورہ میں یہ روپیہ کس کے ذمہ پرآتے ہیں اور کس کے یہ روپے گئے زید کے یا بکر کے،یا چندہ بلقان کے؟ بینوا توجروا
الجواب:
دیوالیہ بننا بینك والےکا ظلم ہے،بکر پر اس کا کچھ الزام نہیں آسکتا،" وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ"[1](کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ت)اور چوبیس روز کے تساہل میں بھی اس پر الزام نہیں،وہ کیاجانتا تھا کہ اتنی مدت میں بینك دیوالیہ ہوجائے گا " وَمَا کُنَّا لِلْغَیۡبِ حٰفِظِیۡنَ ﴿۸۱﴾ "[2](ہم غائب پر حفاظت کرنے والے نہیں۔ت)اور بالفرض اگر وہ جانتا بھی اور بالقصد تکاسل کرتا۔جب بھی روپے کا الزام اس پر آنے کے کوئی معنی نہ تھے کہ وہ نہ سبب ہے نہ مباشر،قاعدہ شرعیہ تو یہ ہے کہ:
|
اذا اجتمع السبب والمباشر اضیف الحکم الی الباشر۔ |
جب سبب اور اتکاب کرنیوالے میں معاملہ دائر ہو تو حکم ارتکاب والے کی طرف منسوب ہوگا(ت) |
دوسرا قاعدہ ہے:
|
تخلل فعل الفاعل المختار یقطع النسبۃ۔ |
مختار کا فع حائل ہوجائے تو نسبت منقطع ہوجاتی ہے۔(ت) |
تو بکرکے روپیہ جانے کی کوئی وجہ نہیں روپے زید کے گئے،رہا چندہ زید اس میں متبرع تھا،لاجبر علی المتبرع(مفت میں دینے والے پر جبر نہیں ہوتا۔ت)تو اس سے بھی مطالبہ نہیں ہوسکتا،نہ اس میں اس کا کوئی قصور ہے کہ اس نے تو چیك لکھ دیا تھا اور اگرنہ بھی لکھتا اور وعدہ کرکے پھر جاتا جب بھی شرعا بُرا تھا،مگر جبر کا اختیار کسی کونہ تھا، اشباہ میں ہے:
|
لاجبر علی الوفاء بالوعد [3]۔ |
وعدہ کے وفا پر جبرنہیں ہوسکتا۔(ت) |
ہاں اگر زید اپنی طر ف سے دوبارہ دے تو یہ اس کا تطوع ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع