30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محاصل کا تاوان مشتری سے وصول کریں،مشتری نے جو قیمت زید کو دی تھی ترکہ زید سے وصول کرے،فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
لوباعہ الغاصب وسلمسہ فالمالك بالخیار ان شاء ضمن الغاصب،وجاز بیعہ والثمن لہ۔وان ضمن المشتری رجع علی الغاصب وبطل البیع ولا یرجع بما ضمن وان باع ولم یسلم لایضمن کذا فی الوجیز للکردری [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
اگر غاصب نے اسے فروخت کر کے سونپ دیا تو مالك کو اختیار ہے چاہے غاصب سے ضمان لے اب غاصب فروخت کردے رقم اس کی ہوگی اور اگر مالك نے مشتری کو ضامن بنایا تو وہ غاصب سے وصول کرے اور بیع باطل ہوجائیگی اور غاصب ضمان کے لئے رجوع نہ کرسکے گا اوراگرغاصب ضمان کے لئے رجوع نہ کرسکے گا اور اگر غاصب نے فروخت کیا مگر ابھی قبضہ نہ دیا تو ضامن نہ ہوگا۔وجیز کردری میں یوں ہے۔والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت) |
مسئلہ ۲۷۹: مسئولہ حافظ محمد سعید صاحب از قصبہ راندیر ضلع سورت ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ
ماقولکم دام فضلکم ایہا العلماء العظام والفقہام الکرام زادکم اﷲ تعالٰی تعظیما لدیہ(تمہارا کیا ارشادہے اے علماء عظام وفقہاء کرام الله تعالٰی کے ہاں تمہاری فضیلت وتعظیم زیادہ ہو۔ت)اس صورت میں زید تاجر نے بلقانی چندہ میں مثلا ایك سو روپیہ لکھ دئے،اور جب اس چندہ وصول کرنیوالے سکتر نے زید سے روپے چندہ کے وصول کرنے کو گیا،تو زید نے چندہ وصول کرنے والے بکرنام کوکہاکہ میرے روپے فلاں بینك میں جمع ہیں میں تم کو یہ چیك یعنی حکم بینك پر لکھ دیتاہوں تم بینك سے روپیہ وصول کرلو،اور تم چاہو تو میں میرے نزدیك سے نقددوں،اس کے جواب میں بکر نام کے سکتر نے کہا کہ چیك دو،زیدنے بموجب طلب کرنے کے بکرکو بینک(کہ مسمی پیپل بینك ہے)اس پر حکم یعنی چیك لکھ دیا،مگر بکرمذکور نے روپے وصول کرنے پیپل بینك سے تکاسل اور غفلت کی،اور اندازہ چوبیس روز کے اس چیك کو اپنے پاس بکر نے ڈال رکھے، اس درمیان میں زید نے دوسری چیك اپنے کام کی بینك کو دی ہے وہ برابر بینك والے روپیہ ادا کردئے ہیں،اوریہ بھی بکر تکاسل اور کاہلی نہ کرتا۔اور بینك میں چیك روانہ کرکے طلب کرتا تو ضرور ریہ روپیہ وصول ہوتے،چونکہ زید کے روپیہ جمع تھے اور اب وہ بینك دیوالیہ بن گئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع