30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لیس لہ ان یمنعہ،وان کان باجازۃ لاخیار لہ لانہ لیس بلازم کذا فی تاتارخانیۃ [1] اھ مختصرا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مبیع کی دیوار پر سے کڑیاں اس کو منع کا حق نہیں اور اگر اجازت سے ہوں تو اس کو اختیار نہیں کیونکہ وہ لازم نہیں۔تاتارخانیہ میں یوں ہے اھ مختصرا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۷۸: از بریلی محلہ شاہ آباد مرسلہ حکیم نذیر الدین صاحب ۹ ذیقعدہ ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد غاصبانہ طریقہ سے حاصل کی اور تخمینا پچاس سال تك اس کی آمدنی کو تصرف کرتا رہا،اور اس میں سے قریب نصف جائداد کے فروخت کردی،زید فوت ہوگیا اور اس نے جائداد بقیہ مغصوبہ کے چھوڑی،اور ورثاء غاصب صرف جائداد مغصوبہ موجودہ کو ورثاء حقدار کو دیتے ہیں،جوجائداد فروخت ہوچکی اور نیز محاصل کل جائداد کا دینے سے منکر ہیں،حالانکہ غاصب نے جادائد کثیر المالیت اس تعداد کی چھوڑی ہےکہ اس سے مطالبہ جائداد مغصوبہ کا اداہو کر جائدا د کثیر المالیت ورثائے غاصب کے لئے باقی رہتی ہے ایسی حالت میں حقدار جائداد مغصوبہ کو ورثان غاصب سے بمقابلہ جائداد یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جائداد مغصوبہ موجودہ اور بیع شدہ اور اس کے محاصل کو جس طرح اس کا حصول ممکن ہو حاصل کرلے۔اور بحالت ہونے جائداد غاصب کے اس کے ورثاء پریہ لازم ہے کہ وہ حقوق مذکورہ بالا کو ادا کردیں یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
فی الواقع وہ جائداد زید نے جس سے غصب کی تھی اسے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو یہ حق حاصل ہے کہ جس قدر جائداد اس میں سے موجود ہے اسے بعینہٖ واپس لیں،اور جو زید نے بیع کردی اس کی قیمت جتنی روزغصب تھی دیگر جائداد مملوکہ زید سے جس طرح ممکن ہو وصول کریں،اور اگر وہ جائداد دیہات یا کرائے پر چلانے کے مکان دکان تھے کہ اصل مالك نے اس لئے بنائے یا خریدے،اور زید نے اس سے غصب کرلئے تو جائداد باقیماندہ کے محاصل آج تك کے اور جائداد بیع شدہ کے محاصل اس دن تك جب تك وہ زید کے پاس رہی جائداد مملوك زید سے وصول کریں،ور ثائے زید پر ان تمام حقوق کا ترکہ زید سے ادا کرنا لازم ہے اور ممانعت کرنا حرام۔نیز مالك اور اس کے وارث چاہیں تو یہ بھی کرسکتے ہیں کہ جائداد موجود میں تو وہی کاروائی کریں، اور جائداد بیع شدہ کے محاصل کا بشرط مذکور روز قبضہ زید تك ترکہ زید سے تاوان لیں،اور اس کی قیمت کا تاوان اور روز قبضہ مشتری سے آج تك اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع