30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اظہار کیا،اور واقع کا علم عالم الغیب جل وعلا کو ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵: مرسلہ بخش الله ساکن بریلی محلہ گندہ نالہ مورخہ یکم جمادی الاٰخری ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ دو مکان دوشخصوں کے خرید کردہ ہیں،ایك شخص کی خریداری قریب پچیس تیس سال کی،اور دوسرے شخص کی خریداری قریب دس سال کے ہے،جس شخص کا مکان خریدا ہوا قریب پچیس سال کے ہے اس کی کڑیاں دوسرے شخص کی دیوار پر رکھی ہے۔اب وہ یہ کہتا ہے کہ میری دیوار پر سے کڑیاں علیحدہ کرلو،یہ کہتا ہے کہ میں نے اسی حیثیت سے خریداہے۔اس کا بیان یہ ہے اور اس شخص کا گمان ہے کہ اس نے خود بعد خریدنے مکان کے یہ کڑیاں رکھوائی ہیں، ایسی حالت میں مستحق ہٹوانے کاہے یانہیں؟
الجواب:
سائل نے بیان کیاکہ اس شخص کو اقرار ہے کہ یہ دیوار جس پرمیری کڑہیاں رکھی ہیں میری نہیں،اس صورت میں اسے کڑیاں رکھنے کا کوئی حق نہیں،اگر غصبا رکھی ہیں جب تو ظاہراور اگر سابق کے مالك کی اجازت سے رکھی تھیں تو اس کی اجازت اس کی ملك ختم ہونے سے ختم ہوگئی،اب بے اجازت مالك اس کا اختیار نہ ہوگا۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں،دو۲ مکان دو۲ دیواریں ملی ہوئی ہےں ایك خام ایك پختہ تھی،اس نے اپنی دیوار میں الماری لگائی ہوئی تھی۔اس میں سے کچھ خام دیوار میں سے کٹی۔قریب ۰۱/گرہ کے لیکن الك دیوار کو نہیں معلوم ہوا،اب اس نے اس مکان کو فروخت کیا،ایسی حالت میں خریدار مواخذہ دار کس کا ہے۔یعنی مالك قبل کا ہے یا مالك مال کاحصہ ہے۔
الجواب:
پہلے مالك سابق کا مواخذہ تھا،اب مالك حال کا،یا تو اس کی رضامندی سے اس قدر زمین کی قیمت اس کو دے دے یا یہ۰۱/گرہ زمین کا ٹکڑا خالی کردے،رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق [1](ظالم کا دخل حق نہیں۔ ت)والله تعالٰی اعلم۔
[1] سنن ابی داؤد باب احیاء الموات آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱،جامع الترمذی ابواب الاحکام باب احیاء ارض الموات امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۶۶،السنن الکبرٰی کتاب الغصب دارصادر بیروت ۶/ ۹۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع