30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے زائد اور خفیہ طور سے اپنی والدہ ہندہ کوکاغذ مذکور اس طرح پڑھ کر سنادیا کہ مکان مملوکہ ومقبوضہ تمھارا،میں نے دو برابر حصوں میں تقسیم کرلیا ہے۔چنانچہ ایسے ہی باور کرادیا،پھر کہا کہ اس پر عدالت میں چل کر خفیہ طور سے رجسٹری کرادو۔ہندہ نےکہا کہ اس کی خبر میرے چھوٹے لڑکے عمرو کو تو کردو،تو کہا کہ تم میرے اعتبار پر اس کی رجسٹری کرادو اطلاع کی کوئی ضرورت نہیں۔اس پر ہندہ نے قطعی انکارکردیا لہذا دستاویزنامکمل اور بلا دستخطی رہی جبکہ عمرو کویہ معلوم ہواتو اس نے اس کی شکایت اپنی والدہ ہندہ سے کی،ہندہ نے کہا کہ مجھے تو دو برابر حصوں میں بانٹنا باور کرایا ہے۔بربناء اس ناخوشی وتحکم کے ہندہ نے زید سے اس دیور کو جو زید کے بلا رضامندی فریق ثانی کے بطور خود قائم کرلی منہدم کرنے کو کہا،تو زید نے اپنی روباہ بازیوں سے اسے ٹالا اور ایك کرایہ نامہ اپنے نام سے فریق ثانی کی حق تلفی کے واسطے لکھ کر اس میں کرایہ دار بسایا،اس کے روکنے کے واسطے جبکہ عمرو نے زید کو تنبیہ تحریری کی تو اس کو خیال میں نہ لایا بلکہ اپنی بد معاملگی اور دغابازی پر اب تك مصر ہے۔اور نہ مکان مذکور کانصف کرایہ دیتا ہے۔نہ کرایہ نامہ میں شکرت کرتاہے۔نہ دیوار منہدم کراتاہے۔بلکہ ہر طریقہ سے فریق ثانی کی حق تلفی پر آمادہ ہے۔اور کوئی شرعی فہمائش کسی کی اس کو بوجو طمع نفسانی کے مفید نہیں ہوتی،دیگر یہ کہ یہ شخص وعظ بھی کہتاہے حالانکہ اس کی تحصیل علم قطعی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی،نہ کسی مستند معتبراستاد سےکبھی پڑھا۔نہ فقہ،نہ تفسیر،نہ حدیث،بلکہ صرف اردو کی چند کتابوں کے ذریعہ سے وعظ گوئی کرتاہے،تو شرع شریف ایسے شخص کی نسبت کیا حکم فرماتی ہے؟ آیا اس کا ایمان سالم رہا یا نہیں؟ آیا تقسیم مذکور جائز ہوئی یا نہیں؟ مسلمانوں کو اس سےکیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟ اسے وعظ کہنا چاہئے یانہیں؟ اسکی شہادت معتبر ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
وہ تقسیم باطل محض ہے۔اور زید سخت ظالم،فاسق،فاجر،مرتکب کبائر،مستحق عذاب نار و غضب جبار ہے۔مسلمانوں کو اس سے وہی برتاؤ چاہئے جو ظالموں موذیوں سے چاہئے۔
|
قال اﷲ تعالٰی" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[1]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:اگر تجھے شیطان بھُلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔ |
اسے وعظ کہنا حرام ہے۔اس کا وعظ سننا جائز نہیں۔وہ اگر ایك کوڑی کے معاملہ پر ہزار بار شہادت دے شرعا مردود ہے۔جو اس کی گواہی قبول کرے گا گنہ گار ہوگا۔یہ سب اس بناء پر ہے جو سائل نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع