30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:حسب شرائط فرائض عبدالغفور کا جو کچھ ترکہ ہے خواہ موروثی،خواہ خرید کردہ۔ا س سب سے عبدالغفور پرجو کچھ دین ہے تقسیم ترکہ سے پہلے اسے ادا کریں۔دین مہر زوجہ اور دوسرا قرضہ جو عبدالرحیم کی شرکت میں تھا سب برابر ہے،اگر چہ جائداد اس میں مہر وقرضہ کے مجموعہ سے کم یابرابر ہو،تو سب ترکہ مہروقرض میں حصہ رسد دیا جائے،خواہ کسی وارث کو وراثۃ کچھ نہ ملے۔اوراگر ترکہ زیادہ ہے تو مہر و قرض میں جس قدرواجب ہے تمام وکمال اداکرکے،اس کے بعدجو بچے اس کی تہائی سے عبدالغفور کی وصیت اگر اس نے کی ہو نافذ کی جائے،باقی کے ۱۴۴(ایك سو چوالیس)حصے ہوکر اٹھارہ سہم زوجہ اور تئیس تئیس سہم ہردختر،اور دس دس سہم ہر برادر،اور پانچ پانچ سہم ہر خواہر کودیں،اور بھتیجا کچھ نہ پائے گا۔اوربعد موت عبدالغفور جو نفع مال مشترك سے عبدالرحیم نے حاصل کیا اسے چاہئے کہ عبدالغفور کےحصہ کا نفع اس میں سے اپنے حصہ یعنی بہتّر۷۲ حصوں سے پانچ حصے نکال کر باقی دیگر ورثاء عبدالغفور کو دے دے،
|
لانہ حصلہ بوجہ خبیث وکان علیہ اخراجہ، اما صدقۃ اوردا علی المالک،وھوا لافضل کما فی الخیریۃ و الہندیۃ وغیرھما۔ |
کیونکہ اس نے خبیث طریقہ سے حاصل کیاہے،اس پر اپنی ملکیت سے باہر کرنا لازم ہے یا صدقہ کرے یا مالك کو واپس کرے اور یہ افضل ہے جیسا کہ خیریہ میں اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔(ت) |
اس صورت میں کہ مہر وقرض مل کر جملہ ترك عبدالغفور سے زائد یا برابر نہ ہو،لان الدین اذا لم یستغرق ینتقل الملك الی الورثۃ(کیونکہ اگرمیت کا قرضہ ترکہ پر حاوی نہ ہو تو ورثاء کی ملك ہوگا۔ت)اور اگر زائد یا برابر تھا تو جو نفع حصہ عبدالغفور سے حاصل کیا ہے تمام وکمال فقیروں پر صدقہ کردینا اس پر واجب ہے نہ کرے گا تو گنہ گار ہوگا۔
|
لان الدین المستغرق یمنع ملك الورثۃ کما فی الاشباہ [1]۔وحق الدائن فی المالیۃ فلا مالك یرد علیہ فتعین التصدق وجوبا۔ |
کیونکہ ترکہ پر اگر قرض حاوی ہو تو ورثاء کی ملك نہ ہوگا۔جیسا کہ الاشباہ میں ہے اور مالیت پر قرض خواہ کا حق ہے تو اس کا کوئی مالك نہیں ہے جس پرواپس کیاجائے لہذا لازما صدقہ کرنا متعین ہوگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع