30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عجلت تیاری میں غلطی سے ایك چٹائی مسجد کی بانی مسجد نے یہ سمجھ کر کہ ایك چٹائی ایسے تنگ وقت دستیاب نہ ہو سکے گی۔اور مسجد میں دوسری چٹائی بجائے اس کے رکھ دی جائے گی،لے کرمیت کے تختوں پرجوقبر میں بچھائی گئی تھی اس لئے کہ مٹی قبر کی درازتختہ سے نہ چھنے،ڈال دی،اور وہ قبر میں کام آگئی،تو ایسی حالت میں ایسے شخص کے لئے جس نے میت معروضہ سے مسجد کی چٹائی ضرورت مذکورہ میں بحوالہ عجلت بکار مسطورہ اٹھائی،شرع شریف کا کیاحکم ہے؟ اور اس کا کفارہ کچھ ہوسکتاہے یاکیا؟ فقط
الجواب:
وہ گنہ گار اور مجرم خاص حقیقی سرکار ہوا،لغصبہ الوقف فلیس فی تاثمیہ وقف(اس کے وقف کو غصب کرنے میں گناہ میں کوئی شك نہیں ہے۔ت)اس کا کفارہ صدق دل سے توبہ ہے،ویتوب اﷲ علی من تاب(الله تعالٰی توبہ کر نے والے کی توبہ کو قبول فرماتاہے۔ت)او رویسی ہی چٹائی یا اس سے بہتر مسجد میں ڈالنا،اور وسعت رکھتاہے تو خدمت مسجد وحاجت روائی صلحاء و مساکین میں بقدر قدرت پاك نیت سے صرف کرے کہ اس کی خدمت پسندسرکارہو،اور رحمت توجہ فرماکر گناہ دھودے،
|
قال اﷲ تعالٰی" اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ۚ "[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
الله تعالٰی نے فرمایا:نیکیاں ختم کردیتی ہیں برائیوں کو،یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کےلئے نصیحت ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوگیا ور اس نے مال تجارتی اور دیگر جائداد زر خریداپنی بشراکت اپنے بردار حقیقی عبدالرحیم کے چھوڑی اور اس مال میں سے نفع جائداد سے کرایہ تخمینا بارہ سال کے عبدالرحیم حاصل کرتا ہے۔اور دوسرا مال اورجائداد موروثی جو والدین سے پایا وہ بھی چھوڑا،اب مال اپنا زر خریداور جائداد موروثی کس طرح پر تقسیم ہوگا۔وارث اپنے چھوڑے،ایك زوجہ،دوبھائی،ایك بھتیجا اور دو ہمشیریں اور تین بیٹیاں اپنی،اور قرضہ عبدالغفور فوت شدہ نے بشراکت عبدالرحیم کے دین مہر اپنی زوجہ دینا چھوڑا،اب اس میں سے کون ساقرضہ ادا کیا جائے گا۔اور ازروئے شرع شریف کے وہ مال کس طرح پر تقسیم ہوگا؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع