30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی المخمصۃ من ضروریات الدین وبعد ھذا لایتجہ الفرق بکون الحرمۃ لعینہٖ اولغیرہٖ،کما وقع عن بعض العلماء،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کردے غصب کی حرمت ضروریات دین میں سے ہے تو ایسی صورت میں حرمت لعینہٖ او لغیرہ کافرق کام نہ دے گا جیساکہ بعض علماء سے یہ سرزد ہوا ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۷۱:
|
چہ می فرمایند فہقائے دن وفضلائے شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے مثلا زید چہارپسریعنی عمرو و خالد وبکر وہاشم واموال منقولہ وغیرمنقولہ را متروك داشتہ از سرائے فانی بسرائے باقی رحلت فرمود،بعد ہ،خالد وبکر وہاشم ازاراضی پدر متوفی ہر یك حسب خرچ خوردپوش بگیرند،ومابقی نزد عمرو موجو است،امام از بہر اوشان قدر زائد است لکن عمر واز قد زائد اخراجات جمیع اراضی خود وبرادارں را انجام فی دہد،تاکہ جہت آں رادفتر سرکاری خوف وتلف برکل مال پیش نیابند،پس درایں صورت عمرو راغاصب وکافر خواندہ ومہمانی ودعوات خوردندوقبول نموند حسب شرع شریف صحیح است یانہ،ونیز زمین کہ عمرو از کسب خود خریداست باز بوقت قسمت صحیح خالد وغیرہ از شیئ مکسوب عمرو طلبیدن شرعا جائز است یانہ؟ |
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور فضلائے شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص مثلازید فوت ہو ااس نے منقولہ وغیرہ منقولہ مال اور چار بیٹے عمرو،خالد،بکر اور ہاشم وارث چھوڑے،خالد بکر اور ہاشم نے اپنے مرحوم والد کی زمین سے خوراك ولباس کے اخراجات کے مطابق حصہ وصول کرلیا اور باقی جو کھ ہے وہ عمرو کے پاس موجود ہے تاہم دوسروں کی نسبت اس کے پاس زیادہ ہے لیکن اس زائد سے اپنی اور بھائیوں کی تمام زمین کے جملہ اخراجات پورے کرتاہے تاکہ سرکاری دفاتر سے ضرر رسانی کے خطرے کو پورے مال پر سے ختم کیا جائے۔تو کیا اس صورت میں عمرو کو غاصب وکافر کہنا اور اس کی دعوت مہمانی کھانا اور قبول کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے یانہیں؟ نیز عمرو نے اپنی کمائی سے جو زمین خریدی ہے اس کو تقسیم سے الگ رکھنا صحیح ہے اور خالد وغیرہ کا عمرو کی کمائی کو طلب کرنا شرعا جائز ہے یانہیں؟(ت) |
الجواب:
|
اگر عمرو برضائے دیگر ورثہ براں اراضی حصہ دیگر قابض ست،وخزانہ از جانب ایشاں می دہد،وہر چہ زیادت محاصل بود |
اگر عمرو باقی وارثوں کی رضامندی سے ان کے حصہ پر قابض ہے اوراخراجات سرکاری ان کی طرف سے ادا کرکے باقی آمدن کو مساوی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع