30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کردن ونیز مہمان وخورندگان رازاں خوردن شرعا نافذ است یانہ،واگر غاصب برفعل غصب اصرار کند وآں تعامل او معلوم می شود کہ غصب راغصب نہ فہمد بلکہ فعل غصب رانومے از حرفت وپیشہ شمرد،حسب شرع شریف بروجہ تعزیر واجب خواہد شد،بینو بسند الکتاب وتوجروا الی ملك الوھاب۔ |
شرعا جائز ہے یانہیں؟ اورغاصب اپنے غاصبانہ عمل پر اصرار کرے اور اس کو معمول کی کاروائی سمجھے اور غصب نہ سمجھے بلکہ غاصبانہ کاروائی کو وہ ہمیشہ بنالے تو کیا شرعا وہ تعزیر کا مستحق ہے کتاب کی سند کے ساتھ بیان کیجئے اور ملك الوہاب سے اجر پائیے۔(ت) |
الجواب:
|
حرکت مذکورہ بالیقین غصب وحرام ست،قال اﷲ تعالٰی " لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ "[1]وغاصب اگر از عین مغصوب کسے راہبہ کند یا ہدیہ دہدیا ضیافت خوراند یا باجرت وتنخواہ یا قیمت چیزے دہد،بہر صورت مردماں راگر فتن و خوردنش حرام ست وقد تناول الکل الاٰیۃ المتلوۃ کما لایخفی و باصرار بغصب جز زیادت در وبال عذاب واستحقاق نارجہنم چیزے فزوں نشود،و مجردایں تعامل دلیل بیش ازیں نباشد، آری اگر ثابت شود کہ غصب حرام شرعی راحلال می دارند، آنگاہ البتہ لزوم کفر ست بلکہ عندالتحقیق بلا شبہ کفر باشد لان المدار علی کون ماانکرہ من ضروریات الدین و لا شك ان حرمۃ الغصب من دون حیلۃ شرعیۃ کمن یرید اخذحقہ من المنکر ولاضرورۃ ملجئۃ تمکن |
مذکورہ عمل یقینا غصب اورحرام ہے۔الله تعالٰی نے فرمایا: آپس کا مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ،اور غاصب اگر عین مغصوبہ چیز کسی کو دے یاہدیہ،ضیافت،اُجرت تنخواہ یا کسی چیز کی قیمت کے طورپر دے تو لوگوں کو لینا اورکھانا حرام ہے اور آیہ کریمہ مذکورہ ان تمام صورتوں کو شامل ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے،اور غصب پر اصرار سے عذاب اور وبال اور استحقاق جہنم کے علاوہ کیا زائد ہوگااور اس کو معمول بنالینا اس سے زائد پر دلیل نہیں ہے ہاں اگر معلوم ہوجائے کہ اس نے حرام کو حلال جانا تو اسی وقت لزوم کفر ہوگا بلکہ عندالتحقیق بلاشبہ کفر ہوگا کیونکہ کفر کا دارومدار ضروریات دین کے انکار پر ہے او راس میں شك نہیں کہ بغیر حیلہ شرعیہ مثلا کسی سے اپنے حق کے بدلے لینا جبکہ وہ منکر ہو اور بغیر ایسی ضرورت جو اس کو مخمصہ میں مبتلا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع