30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الابعد اجتماعہما ففیم یضمن قلت یضمن ضمان التعدی وان لم یعد غاصبا،قال السید العلامۃ الازھری فی فتح اﷲ المعین،فان قیل وجدالضمان فی مواضع ولم تتحق العلۃ المذکورۃ کغاصب الغاصب فانہ یضمن،وان لم یزل یدالمالك بل ازال ید الغاصب،والملتقط اذا لم یشہد مع القدرۃ علی الاشہاد مع انہ لم یزل یدا،وتضمن الاموال بالاتلاف تسبیبا کحفر البیرفی غیر الملك ولیس ثمۃ اذالۃ یداحد ولااثباتہا فالجواب ان الضمان فی ھذہ المسائل لا من حیث تحقق الغصب بل من حیث وجود التعدی کما فی العنایۃ [1] الخ۔ |
تو ضمان تب واجب ہوتاہے جب حق کا زوال او رناحق کا اثبات دونوں جمع ہوں،تو صرف ناحق قبضہ پر ضمان کیونکر لازم ہوگا،جواب میں میں کہتاہوں کہ یہاں ادائیگی سے منع پر ضمان ہے اگر چہ یہ غصب نہیں ہے سید علامہ ازہری نے فتح الله المعین میں فرمایا ہے اگر اعتراض کیا جائے کہ کئی مقامات پر ضمان واجب ہوتاہے حالانکہ وہاں مذکورہ علت نہیں پائی جاتی،مثلاغاصب ضامن ہوتاہے،اگرچہ اس نے مالك کا قبضہ زائل نہ کیا بلکہ اس نے غاصب کا قبضہ توڑاہے اور یونہی گری ہوئی چیز اٹھانے والا جب اس پر گواہ بناسکتا تھا او رگواہ نہ بنائے حالانکہ اس نے بھی مالك کا قبضہ نہ توڑا اور یوں ہی ہلاکت کا سبب بنانے پر بھی مال کی ہلاکت کا ضامن بنایا جاتاہے مثلا غیر کی ملك میں کنواں کھودنا،اس میں بھی مالك کا قبضہ نہ توڑا، اورنہ ہی باطل قبضہ ثابت ہوا،تو جواب یہ ہے کہ ان مسائل میں اگرچہ غصب متحقق نہ ہوا اس کے باوجود ضمان اس لئے ہے کہ یہاں تعدی پائی گئی ہے،جیساکہ عنایہ میں ہے الخ۔ (ت) |
ہندیہ میں تاتارخانیہ سے ہے:
|
سئل ابو حامد عن مسافر حمل امتعتہ علی سفینۃ لیذھب الی بلدۃ،ثم مات ومعہ ابنہ فاخرج الابن تلك الامتعۃ من تلك السفینۃ الی سفینۃ اخری لیذھب لیسلمہا الی سائر الورثۃ، |
ابوحامد سے سوال ہواکہ مسافر نے سامان ایك کشتی میں رکھا وہ کشتی والا مسافر فوت ہوگیا اس کے بیٹے نے جو ہمراہ تھا دوسری کشتی میں سامان لادا تاکہ باقی وارثوں کو سامان پہنچائےھ لیکن ا س نے اپنے والد کو طے کردہ راستہ کو چھوڑ کر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع